صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 403
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۴۰۳ ۶۵ - كتاب التفسیر / واليل اذا یغشی ۹۲ سُورَةُ وَالَّيْلِ إِذَا يَغْشَى بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ اللہ کے نام کے ساتھ جو رحمن اور رحیم ہے وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : وَكَذَابَ بِالْحُسْنٰی اور حضرت ابن عباس نے کہا: وَكَذَابَ بِالْحُسْنٰی (اليل: ١٠) بِالْخَلَفِ۔وَقَالَ مُجَاهِدٌ سے یہ مراد ہے کہ اس کو یقین نہیں کہ جو نیکی تردی (اليل : ۱۲) مَاتَ وَ تکتی کرے گا اس کا بدلہ اس کو ملے گا اور مجاہد نے کہا: تر ڈی کے معنی ملیا میٹ ہو جائے اور تکفلی کے (اليل : ١٥) تَوَهَّجُ وَقَرَأَ عُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ تَتَلَظَّى۔معنی ہیں وہ بھڑکتی ہے۔اور عبید بن عمیر نے اس لفظ کو تتلقى پڑھا ہے۔تشریح : سُورَةُ وَالَّيْلِ إِذَا يَغْشَى : سورۃ پٹس کے بعد سورۃ لیل آتی ہے اور یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے دن کے بعد رات آتی ہے۔اس میں ظاہری دن رات کے علاوہ روحانی دن رات اور انسان کے اعمال صالحہ اور اعمال سیہ کے نتائج کے طور پر انسان کو متنبہ کیا گیا ہے۔وَكَذَّبَ بِالْحُسْنٰی سے یہ مراد ہے کہ اس کو یقین نہیں کہ جو نیکی کرے گا اس کا بدلہ اس کو ملے گا۔اور مجاہد نے اس کے یہ معنی کئے ہیں کہ وہ جنت کا انکاری ہے۔اور حضرت ابن عباس سے یہ معنی بھی مروی ہیں کہ وہ لا إلهَ إِلَّا الله کا انکاری ہے۔(عمدۃ القاری جزء ۱۹ صفحہ ۲۹۵) بَاب ١ : وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى (اليل:٣) اور دن کو بھی ( میں شہادت کے طور پر پیش کرتا ہوں ) جب وہ خوب روشن ہو جائے ٤٩٤٣: حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ حَدَّثَنَا :۴۹۴۳ قبیصہ بن عقبہ نے ہم سے بیان کیا کہ سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ سفيان (ثوری) نے ہمیں بتایا، انہوں نے اعمش سے، اعمش نے ابراہیم (شخصی) سے، ابراہیم نے عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ دَخَلْتُ فِي نَفَرٍ مِنْ علقمہ بن قیس) سے روایت کی، انہوں نے کہا: أَصْحَابِ عَبْدِ اللَّهِ الشَّامَ فَسَمِعَ بِنَا میں حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ ) کے کئی ساتھیوں أَبُو الدَّرْدَاءِ فَأَتَانَا فَقَالَ أَفِيكُمْ مَنْ کے ساتھ شام میں داخل ہوا۔حضرت ابو درداء يَقْرَأُ فَقُلْنَا نَعَمْ قَالَ فَأَيُّكُمْ أَقْرَأُ نے ہمارے متعلق سنا اور وہ ہمارے پاس آئے۔فَأَشَارُوا إِلَيَّ فَقَالَ اقْرَأْ فَقَرَأْتُ انہوں نے کہا: کیا تم میں کوئی ہے جو قرآن پڑھنا وَالَّيْلِ إِذَا يَغْشَى وَالنَّهَارِ إِذا جانتا ہو۔ہم نے کہا: ہاں۔انہوں نے پوچھا: تم میں