صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 9
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۹ ۶۵ - كتاب التفسير / الزمر قَدَرُوا اللهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَ الْأَرْضُ جَمِيعًا آنے لگیں۔ اس عالم کے قول کی تصدیق میں پھر قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيمَةِ وَالسَّمَوتُ مَطوِيتُ رسول الله صلی الم نے یہ آیت پڑھی: اور اُن صا بِيَمِينِهِ سُبْحْنَهُ وَتَعَلیٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ لوگوں نے اللہ کی صفات کا صحیح اندازہ نہیں لگایا۔ (الزمر: ٦٨) حالانکہ زمین سب کی سب اس کی مملوکہ ہے۔ اور آسمان اور زمین دونوں) قیامت کے دن اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے۔ وہ پاک ہے اور ان کے شرکیہ عقیدوں سے بہت بالا ہے۔ أطرافه: ٧٤١٤ ، ٧٤١٥، ٧٤٥١، ٧٥١٣۔ باب ۳ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيمَةِ وَالسَّمَاتُ مَطوِيتُ بِيَمِينِهِ ( الزمر : ٦٨) اور زمین سب کی سب اس کی مملوکہ ہے اور آسمان اور زمین دونوں) قیامت کے دن اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے ٤٨١٢ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ ۴۸۱۲: سعید بن غفیر نے ہمیں بتایا۔ انہوں قَالَ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ قَالَ حَدَّثَنِي نے کہا: لیث نے مجھ سے بیان کیا، کہا: عبد الرحمن بن خالد بن مسافر نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ابن عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ مُسَافِرٍ شہاب سے ، ابن شہاب نے ابو سلمہ سے روایت عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّ کی کہ حضرت ابو ہریرہ نے کہا: میں نے رسول اللہ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَقْبِضُ زمین کو اپنی مٹھی میں لے گا اور آسمانوں کو اپنے اللهُ الْأَرْضَ وَيَطْوِي السَّمَوَاتِ بِيَمِينِهِ دائیں ہاتھ میں لیٹے گا۔ پھر فرمائے گا: بادشاہ میں ثُمَّ يَقُولُ أَنَا الْمَلِكُ أَيْنَ مُلُوكُ الْأَرْضِ ہوں۔ زمین کے بادشاہ کہاں ہیں ؟ أطرافه: ٦٥١٩، ٧٣٨٢، ٧٤١٣۔ تشریح : وَالسَّمَوتُ مَطوِيتُ بِيَمِينِهِ : علی کے ایک معنی چھپانے کے ہیں۔ کہا جاتا ہے: کویت فُلَانَا عَنْ أَعْيُنِ النَّاسِ ۔ میں نے فلاں آدمی کو لوگوں کی آنکھوں سے پوشیدہ رکھا۔ وَاطوِ هَذَا الحَدِيث عَنِّی کے معنی ہیں اُستره یعنی مجھ سے یہ بات مخفی رکھو۔ الطائی کے ایک معنی فنا اور ختم کرنے کے بھی ہیں۔