صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 5
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۵ ۶۵ - كتاب التفسير / الزمر آیتوں سے صریح معارض پائے جاویں تو ہمیں سمجھنا چاہیے کہ وہ معنی بالکل باطل ہیں۔ کیونکہ ممکن نہیں کہ قرآن کریم میں اختلاف ہو۔ اور سچے معنوں کی یہی نشانی ہے کہ قرآن کریم میں سے ایک لشکر شواہد بینہ کا اس کا مصدق ہو۔“ باب ۱ بركات الدعاء، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۱۷، ۱۸) يُعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَّحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ (الزمر: ٥٤) اللہ تعالیٰ کا قول :) اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جان پر (گناہ کر کے ) ظلم کیا ہے اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ اللہ سب گناہ بخش دیتا ہے۔ وہ بخشنے والا (اور ) بار بار رحم کرنے والا ہے۔ ٤٨١٠ : حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ۴۸۱۰: ابراهیم بن موسیٰ نے مجھ سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ هشام بن یوسف نے ہمیں خبر دی کہ ابن جریج أَخْبَرَهُمْ قَالَ يَعْلَى إِنَّ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ نے ان کو بتایا کہ یعلی (بن مسلم) نے کہا کہ سعید أَخْبَرَهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا بن جبیر نے انہیں بتایا کہ حضرت ابن عباس رضی أَنَّ نَاسًا مِنْ أَهْلِ الشِّرْكِ كَانُوا قَدْ اللہ عنہما سے روایت ہے کہ بعض مشرک لوگوں قَتَلُوا وَأَكْثَرُوا وَزَنَوْا وَأَكْثَرُوا فَأَتَوْا نے خون کئے تھے اور کثرت سے کئے تھے اور مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا بدکاری کی تھی اور بہت ہی بدکاری کی تھی تو وہ محمد إِنَّ الَّذِي تَقُولُ وَتَدْعُو إِلَيْهِ لَحَسَنٌ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ کہنے لگے: جو لَوْ تُخْبِرُنَا أَنَّ لِمَا عَمِلْنَا كَفَّارَةً فَنَزَلَ بات آپ کہتے ہیں اور جس بات کی آپؐ دعوت وَ الَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللهِ إِلهَا آخَرَ وَلَا دیتے ہیں یقینا وہ اچھی ہے۔ اگر آپ ہمیں بتائیں يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللهُ إِلَّا بِالْحَقِّ کہ آیا جو ہم کر چکے ہیں اس کا کفارہ ہو جائے گا؟ تو وَلَا يَزْنُونَ (الفرقان: ٦٩) وَنَزَلَ قُلْ یہ آیت نازل ہوئی: وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ۔ یعنی اور يُعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لا وہ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ اللہ کے سوا کسی اور