صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 548
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۵۴۸ ۶۶ - کتاب فضائل القرآن باب : كَانَ جِبْرِيلُ يَعْرِضُ الْقُرْآنَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جبریل نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن کا دور کرتے تھے وَقَالَ مَسْرُوقٌ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ اور مسروق نے کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا عَنْهَا عَنْ فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَامُ أَسَرَّ سے روایت ہے۔ حضرت عائشہ نے حضرت إِلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ فاطمہ علیہا السلام سے روایت کی۔ (انہوں نے جِبْرِيلَ كَانَ يُعَارِضُنِي بِالْقُرْآنِ كُلَّ کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور راز کے مجھے فرمایا کہ جبریل ہر سال مجھ سے قرآن کا دور کیا سَنَةٍ وَإِنَّهُ عَارَضَنِي الْعَامَ مَرَّتَيْنِ وَلَا کرتے ہیں اور انہوں نے اس سال میرے ساتھ أَرَاهُ إِلَّا حَضَرَ أَجَلِي۔ دو دفعہ دور کیا اور میں سمجھتا ہوں کہ میری وفات کا وقت آپہنچا۔ ٤٩٩٧ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ ۴۹۹۷: يحي بن قزعہ نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ عَنِ ابْنِ سے، زہری نے عبید اللہ بن عبد اللہ سے ، عبید اللہ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ كَانَ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدَ کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھلائی النَّاسِ بِالْخَيْرِ وَأَجْوَدُ مَا يَكُونُ فِي پہنچانے میں تمام لوگوں سے زیادہ سخی تھے اور شَهْرٍ رَمَضَانَ لِأَنَّ جِبْرِيلَ كَانَ يَلْقَاهُ زیادہ تھی جو ہوتے تو آپ ماہ رمضان میں ہوتے۔ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ حَتَّى کیونکہ جبریل رمضان کے مہینہ میں ہر رات کو يَنْسَلَخَ يَعْرِضُ عَلَيْهِ رَسُوْلُ اللهِ آپؐ سے ملاقات کرتے یہاں تک کہ وہ مہینہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقُرْآنَ فَإِذَا گزر جاتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو لَقِيَهُ جِبْرِيلُ كَانَ أَجْوَدَ بِالْخَيْرِ مِنَ قرآن سنایا کرتے تھے اس لئے جب جبریل آپ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ۔ اطرافه ۶، ۱۹۰۲، ٣٢٢٠، ٣٥٥٤۔ سے ملتے تو آپ بھلائی پہنچانے میں بادِ بہار سے بھی زیادہ سخی ہوتے۔