صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 481
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۴۸۱ ۶۵ - كتاب التفسير / اذا جاء نصر الله ۱۱۰ - سُورَةُ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ اللہ کے نام کے ساتھ جو رحمن اور رحیم ہے باب ۱ ٤٩٦٧ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ ۴۹۶۷: حسن بن ربیع نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ ابو الاحوص نے ہمیں بتایا۔ ان بتایا۔ انہوں نے اعمش سے، أَبِي الضُّحَى عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ اعمش نے ابوالضحیٰ سے ، ابوال ، ابوالضحیٰ نے مسروق سے، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ مَا صَلَّى النَّبِيُّ مسروق نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً بَعْدَ أَنْ روایت کی۔ وہ بیان فرماتی ہیں کہ إِذَا جَاءَ نَصْرُ نَزَلَتْ عَلَيْهِ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ اللَّهِ وَالْفَتْح کے نازل ہونے کے بعد نبی صلی اللہ النصر : ٢) إِلَّا يَقُولُ فِيهَا سُبْحَانَكَ علیہ وسلم نے کوئی بھی نماز نہیں پڑھی مگر آپ اس میں یہ کہا کرتے تھے: پاک ذات ہے تو اے رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي۔ ہمارے رب اور اپنی حمد کے ساتھ، اے اللہ پردہ پوشی فرما کر مجھ سے در گزر فرما۔ أطرافه: ٧٩٤ ، ٨١٧، ٤٢٩٣، ٤٩٦٨۔ باب ۲ ٤٩٦٨ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ :۴۹۶۸: عثمان بن ابی شیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي جرير بن عبد الحمید ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے الضُّحَى عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ منصور (بن معمر) سے، منصور نے ابوالضحی سے، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ ابو الحی نے مسروق سے، مسروق نے حضرت اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ أَنْ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ وہ بیان فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رکوع اور سجدے میں یہ بہت کہا کرتے تھے۔ یعنی پاک اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذات ہے تو اے ہمارے رب اور اپنی حمد کے يَقُولَ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ سُبْحَانَكَ يَتَأَوَّلُ الْقُرْآنَ۔ ساتھ۔ اے اللہ پردہ پوشی فرما کر مجھ سے درگزر فرما۔ قرآن شریف سے آپ نے استنباط کیا۔ أطرافه: ٧٩٤ ، ٨١٧، ٤٢٩٣، ٤٩٦٧۔