صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 266
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۲۶۶ ۶۵ - کتاب التفسير / التحريم لِقَرَابَتِي مِنْهَا فَكَلَّمْتُهَا فَقَالَتْ بچنے کے لئے آگاہ کرتا ہوں۔ بیٹی ! یہ عورت تمہیں أُمُّ سَلَمَةَ عَجَبًا لَّكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ کہیں دھو کہ میں نہ ڈالے جس کو اس کے حسن نے صا سة اور رسول اللہ صلی اللہ علیم کی صلی علوم کی اس سے محبت کرنے نے دَخَلْتَ فِي كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى تَبْتَغِيَ أَنْ تَدْخُلَ بَيْنَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ نازاں کر دیا جو آپ اس سے کرتے ہیں۔ ان کی مراد حضرت عائشہ سے تھی۔ (حضرت عمر) فرماتے * عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَزْوَاجِهِ فَأَخَذَتْنِي وَاللَّهِ تھے: پھر ( یہ کہہ کر ) میں نکل گیا اور اُم سلمہ کے أَخْذًا كَسَرَتْنِي عَنْ بَعْضِ مَا كُنْتُ أَجِدُ پاس بوجہ اپنی ان سے رشتہ داری کے آیا اور ان فَخَرَجْتُ مِنْ عِنْدِهَا وَكَانَ لِي سے بھی میں نے یہ گفتگو کی۔ اُم سلمہ (یہ سن کر ) صَاحِبٌ مِّنَ الْأَنْصَارِ إِذَا غِبْتُ أَتَانِي کہنے لگیں: ابن خطاب ! تم بھی عجب ہو ، ہر ایک بِالْخَبَرِ وَإِذَا غَابَ كُنْتُ أَنَا آتِيهِ بات میں دخل دے دیا ہے یہاں تک کہ چاہتے ہو بِالْخَبَرِ وَنَحْنُ نَتَخَوَّفُ مَلِكًا مِنْ کہ رسول اللہ صلی علیہ کی اور آپ کی بیویوں ۔ کی بیویوں کے درمیان بھی دخل دو۔ اللہ کی قسم ! اُم سلمہ نے مجھے ایسا مُلُوكِ غَسَّانَ ذُكِرَ لَنَا أَنَّهُ يُرِيدُ أَنْ يَسِيرَ إِلَيْنَا فَقَدْ امْتَلَأَتْ صُدُورُنَا مِنْهُ الله آڑے ہاتھوں لیا کہ انہوں نے میرے اس غصہ کو ٹھنڈا کر دیا جو اپنے اندر پاتا تھا۔ میں ان کے پاس فَإِذَا صَاحِبِي الْأَنْصَارِيُّ يَدُقُّ الْبَابَ سے چلا گیا اور میرا ایک انصاری ساتھی تھا۔ جب فَقَالَ افْتَحُ افْتَحْ فَقُلْتُ جَاءَ میں (رسول اللہ صلی الم کے پاس) نہ جاتا تو وہ الْغَسَّانِيُّ فَقَالَ بَلْ أَشَدُّ مِنْ ذَلِكَ میرے لئے خبر لاتا اور جب وہ غیر حاضر ہوتا تو اعْتَزَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ میں اس کے پاس خبر لاتا۔ اور ہم ان دنوں غسان وَسَلَّمَ أَزْوَاجَهُ فَقُلْتُ رَغَمَ أَنْفُ کے بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ سے ڈرتے تھے جس کے متعلق ہم سے ذکر کیا گیا کہ وہ ہم پر حَفْصَةَ وَعَائِشَةَ فَأَخَذْتُ ثَوْبِي حملہ کرنا چاہتا ہے۔ ہمارے سینے اس کے خوف فَأَخْرُجُ حَتَّى جِئْتُ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ سے بھر گئے تھے۔ میں کیا سنتا ہوں کہ یکایک وہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَشْرُبَةٍ لَّهُ میرا انصاری سا ساتھی دروازہ کھٹکھٹا رہا ہے۔ اس يَرْقَى عَلَيْهَا بِعَجَلَةٍ وَغُلَامٌ لِرَسُولِ اللهِ نے کہا: کھولو کھولو۔ میں نے کہا: عنسانی آن پہنچے؟ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْوَدُ عَلَى رَأْسِ اس نے کہا: (نہیں) بلکہ اس سے بھی بڑھ کر۔ **