صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 17
صحیح البخاری جلد ۱۷ ۶۵ - کتاب التفسير / كهيعص أَفَرَعَيْتَ الَّذِي كَفَرَ بِايْتِنَا وَ قَالَ لَأُوتَيَنَ کا۔ اس نے کہا: جب اللہ مجھے مار کر پھر اٹھائے گا مَالًا وَ وَلَدًا أَطَّلَعَ الْغَيْبَ أَمِ اتَّخَذَ عِنْدَ اور مجھے مال و اولاد ملے گی (تو اس وقت تم کو دے الرَّحْمَنِ عَهْدًا (مریم: ۷۸-۷۹) قَالَ دوں گا) اس پر اللہ نے یہ آیت نازل کی: اَفَرَویت مَوْثِقًا لَمْ يَقُلِ الْأَشْجَعِيُّ عَنْ سُفْيَانَ الَّذی یعنی کیا تجھے اس شخص کے متعلق معلوم ہوا ہے جس نے ہماری آیات کا کفر کیا اور کہا کہ مجھے سَيْفًا وَلَا مَوْثِقًا ۔ بہت سی دولت اور اولاد ضرور دی جائے گی۔ کیا اس نے غیب کو جھانک کر دیکھ لیا ہے یا رحمن سے کوئی اقرار لے لیا ہے۔ (سفیان ثوری نے) کہا: (عہد کے معنی ہیں) پختہ اقرار (عبید اللہ) اشجعی نے سفیان (نوری) سے روایت کرتے ہوئے تلوار کا ذکر نہیں کیا اور نہ یہ کہ (عہد کے معنی ہیں) پختہ اقرار۔ أطرافه: ۲۰۹۱، ۲۲۷۵، ۲۴۲۵ ، ٤۷۳۲، ٤٧٣٤، ٤٧٣٥۔ تشريح : أَطَّلَعَ الْغَيْبَ أَمِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمَنِ عَهْدًا : سورۃ مریم کی مذکورہ بالا آیت کے تحت حضرت خباب بن ارت کے واقعہ کا ہی حوالہ دیا ہے جو سابقہ باب میں گزر چکا ہے۔ بحالیکہ سیاق کلام کی رو سے اس آیت کے یہ معنی ہیں کہ عیسائی قوم اپنے کفر میں اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ اسے خیال ہے کہ اس سے کوئی مواخذہ مواخذہ نہیں کیا جائے گا۔ فرماتا ہے: كَلَّا ہر گز نہیں۔ سَنَكَتُبُ مَا يَقُولُ وَنَمْدُّ لَهُ مِنَ الْعَذَابِ مَدًّا وَ نَرِثُهُ مَا يَقُولُ وَيَأْتِينَا فَرْدًا (مریم: ۸۱،۸۰) یعنی ہم اس کے اس قول کو محفوظ رکھیں گے اور اس کے عذاب کو لمبا کر دیں گے اور جس بات پر وہ فخر کر رہا ہے اس کے ہم وارث ہو جائیں گے اور وہ ہمارے پاس اکیلا ہی آئے گا۔ یعنی اس کا جتھا جس پر اسے ناز ہے۔ محاسبہ کے وقت اسے کوئی کام نہیں دے سکے گا۔ روایت زیر باب میں جو لفظ أَنْزَلَ کا آیا ہے اس کا مفہوم تطبیق ہے ، نہ کہ سیاق کلام کا مفہوم و مقصود۔ جس کا تعلق ایک بہت بڑی پیشگوئی سے ہے۔ جیسا کہ ابھی اس بارہ میں وضاحت کی جائے گی اور امام بخاری کا اصل مدعا بتایا جائے گا۔ بابه : كَلَّا سَنَكْتُبُ مَا يَقُولُ وَ نَمُدُّ لَهُ مِنَ الْعَذَابِ مَدًّا (مريم : ۸۰) گے ہرگز نہیں۔ ہم اس کے اس قول کو محفوظ رکھیں گے اور اس کے عذاب کو لمبا کر دیں ۔ ٤٧٣٤ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ۴۷۳۴: بشر بن خالد نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ محمد بن جعفر نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے شعبہ سے،