صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 16
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۶۵ - کتاب التفسير / كهيعص هُوَ شَرٌّ مَكَانًا وَ أَضْعَفُ جُنْدًا (مریم : ۷۶) یعنی کہہ کہ جو شخص گمراہی میں پڑا ہو ، رحمن اسے کتنی بھی ڈھیل دیتا رہے آخر وہ گھڑی آجائے گی جب وہ اس وعید کو دیکھ لیں گے جس سے انہیں خوف دلایا جا رہا ہے، سزا بھی پائیں گے اور وہ کامل تباہی کی گھڑی بھی۔ سو اس وقت انہیں ضرور علم ہو جائے گا کہ کون بلحاظ اپنے مکان کے بد تر ہے اور کون بلحاظ اپنے لاؤ لشکر کے سب سے زیادہ کمزور ہے۔ اس آیت کے تسلسل میں فرماتا ہے : اَفَرَعَيْتَ الَّذِي كَفَرَ بِايْتِنَا وَقَالَ لَأُوتَيَنَ مَالًا وَ وَلَدًا )۔ 01 (مریم: (۷۸) یعنی کیا تجھے اس شخص کے متعلق معلوم ہوا ہے جس نے ہماری آیات کا آیات کا کفر کیا اور کہا کہ مجھے بہت سی دولت اور بہت سی اولاد ضرور دی جائے گی۔ آیت مَنْ كَانَ فِي الضَّلالَةِ کا تعلق مسیحی اقوام سے ہی ہے جن کا ذکر ان آیات کے سیاق و سباق میں ہے۔ الضَّالِّينَ سے مراد بالاتفاق عیسائی قوم لی گئی ہے جیسا کہ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ سے مراد یہود ہیں۔ ظاہر ہے یہاں آیت الَّذِي كَفَرَ بالتنا میں منکرین باری تعالیٰ اور احساناتِ الہیہ کے ناشکر گزار لوگ مراد ہیں۔ جنہیں اپنے مال و دولت اور اپنی بے شمار ذریت کی کثرت پر بڑا گھمنڈ اور ناز ہے۔ فرماتا ہے: کتنی بھی کثرت و فراوانی اور کشائش حاصل ہو جائے اما الْعَذَابَ وَإِمَّا السَّاعَةَ یہ سزائے بچ نہیں سکیں گے اور نہ تباہی کی مقدر گھڑی ٹال سکتے ہیں۔ باب ٤ : أَطَّلَعَ الْغَيْبَ أَمِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمَنِ عَهْدًا (مريم : ۷۹) ( اللہ تعالیٰ کا فرمانا: ) کیا اس نے غیب کو جھانک کر دیکھ لیا ہے یا رحمن سے کوئی اقرار لے لیا ہے۔ قَالَ مَوْثِقًا ۔ عہد کے معنی ہیں: مضبوط اقرار وثیقہ ) ٤٧٣٣ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ۴۷۳۳: محمد بن کثیر نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ سفیان ثوری) نے ہمیں خبر دی ۔ انہوں نے أَبِي الضُّحَى عَنْ مَّسْرُوقٍ عَنْ خَبَّابِ اعمش سے ، اعمش نے ابوا ابوالضحیٰ سے، ابوالضحیٰ نے قَالَ كُنْتُ قَيْنَا بِمَكَّةَ فَعَمِلْتُ لِلْعَاصِ مسروق سے، مسروق نے حضرت خباب (بن بْنِ وَائِلِ السَّهْمِي سَيْفًا فَجِئْتُ أَتَقَاضَا ارت) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں مکہ میں لوہاری کا پیشہ کرتا تھا اور میں نے عاص بن وائل فَقَالَ لَا أُعْطِيكَ حَتَّى تَكْفُرَ بِمُحَمَّدٍ سبھی کے لئے ایک تلوار بنائی۔ پھر اس کے پاس ) قُلْتُ لَا أَكْفُرُ بِمُحَمَّدٍ قیمت کا تقاضا کرنے آیا۔ وہ کہنے لگا: جب تک تم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يُمِيتَكَ محمد (صلی ال) کا انکار نہیں کروگے میں تمہیں نہیں اللهُ ثُمَّ يُحْيِيكَ۔ قَالَ إِذَا أَمَاتَنِي اللهُ دوں گا۔ میں نے کہا: اللہ تمہیں مار کر پھر زندہ بھی ثُمَّ بَعَثَنِي وَلِي مَالٌ وَوَلَدٌ فَأَنْزَلَ اللهُ: کر دے تو بھی میں محمد صلی للی سیم کا انکار نہیں کرنے ملیروم الله