صحیح بخاری (جلد یازدہم)

Page 219 of 260

صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 219

صحیح البخاری جلد !! ۲۱۹ ۶۵ - كتاب التفسير / سبأ تشريح : حَتَّى إِذَا فُرْعَ عَنْ قُلُوبِهِمْ قَالُوا مَا ذَا قَالَ رَبُّكُمْ ۔۔۔۔ پوری آیت یہ ہے: وَلَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنْدَةَ إِلَّا لِمَنْ أَذِنَ لَهُ حَتَّى إِذَا فُرْعَ عَنْ قُلُوبِهِمْ قَالُوا مَا ذَا قَالَ رَبُّكُمْ قَالُوا الْحَقِّ ۚ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ (سبأ : ٢٤) (۲۴) اس کے حضور شفاعت نفع نہیں دے گی مگر اس شخص کی جسے اس نے اجازت دی ہو۔ یہاں تک کہ جب اجازت پانے والوں کے دلوں سے خوف دور کیا جائے گا تو وہ ان سے کہیں گے تمہارے رب نے تم سے کیا کہا تھا وہ کہیں گے ایسی بات جو اٹل ہے اور وہ بلند شان، بڑے اختیارات والا ہے۔ اسْتِرَاقُ السَّمْع کی روایت کتاب التفسير تفسير سورة الحجر باب میں گزر چکی ہے اور بتایا گیا ہے کہ شیطانوں کا گروہ کس طرح انبیاء کی وحی سے استنباط کرتا اور ان کی پیشگوئیوں میں اپنی طرف سے خلط ملط کر کے لوگوں کو فریب دیتا ہے۔ روایت زیر باب کے الفاظ میں استعارہ و مجاز ہے۔ اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ ملائکہ کا پھڑ پھڑانا پرندوں کی طرح ہے۔ اس سے زمین و آسمان میں غیر معمولی اضطراب کا پیدا ہونا اور ملکی تحریکات کا روبکار آنا مراد ہے۔ باب ۲ : إِنْ هُوَ إِلَّا نَذِيرٌ لَكُم بَيْنَ يَدَى عَذَابٍ شَدِيدٍ (سبأ : ٤٧) ( اللہ تعالیٰ کا فرمانا: ) وہ تو صرف خطرے سے آگاہ کرنے والا ہے جو ایک نہایت سخت عذاب آنے سے قبل تمہیں ڈراتا ہے ٤٨٠١ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ۴۸۰۱: علی بن عبد اللہ نے ہمیں بتایا کہ محمد بن حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَازِمٍ حَدَّثَنَا خازم نے ہم سے بیان کیا۔ اعمش نے ہمیں بتایا۔ الْأَعْمَسُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ انہوں نے عمرو بن مرہ سے ، عمرو نے سعید بن جبیر سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ سے ، سعید نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اللهُ عَنْهُمَا قَالَ صَعِدَ النَّبِيُّ صَلَّى روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ کی ایک دن صد علیروم اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّفَا ذَاتَ يَوْمٍ صفا پہاڑ پر چڑھے ، آپ نے یا صبا حالا پکارا۔ یہ فَقَالَ يَا صَبَاحَاهُ فَاجْتَمَعَتْ إِلَيْهِ پکار سن کر قریش کے لوگ آپ کے پاس اکٹھے ہو قُرَيْشٍ قَالُوْا مَا لَكَ قَالَ أَرَأَيْتُمْ لَوْ گئے۔ پوچھنے لگے: تمہیں کیا ہوا ہے؟ آپ نے أَخْبَرْتُكُمْ أَنَّ الْعَدُوَّ يُصَبِّحُكُمْ أَوْ فرمایا: بتلاؤ تو سہی اگر میں تم کو یہ خبر دوں کہ دشمن يُمَسِيكُمْ أَمَا كُنْتُمْ تُصَدِّقُوْنَنِي قَالُوا تم پر صبح یا شام کو چھاپہ مارے گا تو کیا تم مجھے سچا بَلَى قَالَ فَإِنِّي نَذِيرٌ لَّكُمْ بَيْنَ يَدَيْ سمجھو گے؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں ضرور ۔ آپؐ