صحیح بخاری (جلد یازدہم)

Page 171 of 260

صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 171

صحیح البخاری جلد !! اكا ۶۵ - کتاب التفسير القمان ٣١ - سُوْرَةُ لُقْمَانَ باب ۱ : لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ (لقمان: ١٤) (اللہ تعالیٰ کا فرمانا:) اللہ کا شریک نہ ٹھہراؤ کیونکہ شرک بہت بڑا ظلم ہے ٤٧٧٦ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ۴۷۷۶: قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ جریر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے ، اعمش إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللهِ نے ابراہیم (نخعی) سے، انہوں نے علقمہ سے، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ علقمہ نے حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ الآيَةُ الَّذِينَ آمَنُوا وَ لَمْ يَلْبِسُوا عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: جب آیت إِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ (الأنعام : ۸۳) شَق الَّذِينَ آمَنُوا وَ لَمْ يَلْبِسُوا إِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ نازل ہوئی یعنی وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے ذَلِكَ عَلَى أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالُوا أَيُّنَا لَم اپنے ایمان کی ظلم سے آمیزش نہیں کی، تو رسول اللہ صلی الہ وسلم کے صحابہ پر شاق گزرا اور وہ يَلْبِسْ إِيْمَانَهُ بِظُلْمٍ قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ کہنے لگے : ہم میں سے کون ہے جس نے اپنے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ لَيْسَ بِذَاكَ ایمان کو ظلم سے آمیختہ نہیں کیا۔ رسول اللہ أَلَا تَسْمَعُ إِلَى قَوْلِ لُقْمَانَ لِابْنِهِ إِنَّ مَل الله علی علیوم یم نے فرمایا: اس سے یہ مراد نہیں ہے۔ کیا الشركَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ (لقمان: ١٤) تم لقمان کی بات نہیں سنتے جو انہوں نے اپنے بیٹے سے کہی۔ یعنی شرک ہی بہت بڑا ظلم ہے۔ أطرافه: ۳۲، ۳۳۶۰، ٣٤۲۸، ٣٤٢٩، ٤٦٢٩، ٦٩١٨، ٦٩٣٧۔ ر سے سورۃ لقمان کی یہ آیت مراد ۔ تشريح : لا تُشْرِكْ بِاللهِ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ - ہے: وَ إِذْ قَالَ لُقْمَنُ لِابْنِهِ وَ هُوَ يَعِظُهُ يُبْنَى لَا تُشْرِكْ بِاللهِ إِنَّ الشَّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ ) (لقمان: ۱۴) اور یہ بات مد نظر رہے کہ لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا تھا جب وہ اپنے بیٹے کو نصیحت کر رہے تھے کہ اے میرے بیٹے ! اللہ کا شر !! اللہ کا شریک نہ ٹھہراؤ کیونکہ شرک بہت بڑا ظلم ہے۔ بڑا ظلم ہے۔ ظلم کے معنی وَضْعُ الشَّيْءِ فِي غَيْرِ مَوْضِعِهِ کسی شے کو اپنی جگہ پر نہ رکھنا بلکہ دوسری جگہ پر۔ کسی کا حق چھین کر دوسرے کو دینا۔ صفات باری تعالٰی کی