صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 163
صحیح البخاری جلد ۱۶۳ ۶۵ - كتاب التفسير / الروم ٣٠ - سُوْرَةُ الرُّومِ فَلَا يَرْبُوا (الروم : ٤٠) مَنْ أَعْطَى فَلَا يَرْبُوا یعنی جس نے اس غرض سے دیا کہ اُسے يَبْتَغِي أَفْضَلَ فَلَا أَجْرَ لَهُ فِيهَا ۔ قَالَ بڑھ چڑھ کر ملے (وہ نہیں بڑھتا اور ) اس کے خرچ مُجَاهِدٌ يُحْبَرُونَ (الروم : ١٦) يُنَعَمُوْنَ کرنے کا کوئی اجر نہیں۔ مجاہد نے کہا: يُحْبَرُونَ کے معنی ہیں وہ آسائش کی زندگی بسر کریں گے۔ يَشْهَدُونَ (الروم : ٤٥) يُسَرُّوْنَ الْمَضَاجِعَ۔ الودق (الروم : ٤٩) الْمَطَرُ۔ قَالَ ابْنُ يَشْهَدُونَ کے معنی ہیں اپنی آرام گاہیں سنواریں گے۔ الودق کے معنی ہیں برسات۔ حضرت ابن عَبَّاسٍ هَلْ لَكُمْ مِنْ مَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ عباس نے فرمایا : هَلْ لَكُمْ مِنْ مَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ (الروم : ٢٩) فِي الْآلِهَةِ وَفِيهِ تَخَافُونَهُمْ۔ معبودوں کے متعلق (مثال) ہے تم ڈرتے ہو کہ وہ أَنْ يَرِثُوْكُمْ كَمَا يَرِثُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا۔ تمہارے اسی طرح وارث ہو جائیں گے جس طرح يَصَّدَّعُونَ (الروم : ٤٤) يَتَفَرَّقُوْنَ، تم ایک دوسرے کی مملوکہ شے میں وارث ہوتے فَاصْدَعُ (الحجر: ٩٥) وَقَالَ غَيْرُهُ ضُعْف ہو۔ يَصَّدَّعُوْنَ کے معنی ہیں الگ الگ ہو جائیں و ضعف (الروم : ٥٥) لُغَتَانِ ۔ وَقَالَ گے ۔ جیسے فاصدع ہے یعنی تو کھول کر بیان کر اور مُجَاهِدُ السُّواى (الروم :(۱۱) الْإِسَاءَةُ اس کے ماسوا اوروں نے کہا: ضعف اور ضعف دونوں طرح زبان عربی میں بولا جاتا ہے اور مجاہد نے کہا: الشواى، الإساءة سے مشتق ہے یعنی جَزَاءُ الْمُسِيئِينَ۔ بدی کرنے والوں کا بدلہ۔ ٤٧٧٤ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ۴۷۷۴ : محمد بن کثیر نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ (ثوری) نے ہمیں بتایا، ) ہمیں بتایا، (کہا:) منصور اور اعمش نے وَالْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي الضُّحَى عَنْ ابوالضحیٰ سے ابوالضحیٰ سے ، ابوالضحیٰ نے مسروق ۔ سے روایت مَّسْرُوقٍ قَالَ بَيْنَمَا رَجُلٌ يُحَدِّثُ فِي کی۔ انہوں نے کہا کہ ایک دفعہ کوئی شخص کندہ كِنْدَةَ فَقَالَ يَجِيءُ دُخَانٌ يَوْمَ قبیلے میں باتیں کر رہا تھا ، وہ کہنے لگا: قیامت کے روز الْقِيَامَةِ فَيَأْخُذُ بِأَسْمَاعِ الْمُنَافِقِيْنَ دُھواں آئے گا اور وہ منافقوں کی شنوائی اور بینائی