صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 123
صحیح البخاری جلد ۱۲۳ ۶۵ - کتاب التفسير / الفرقان ہوتی ہے۔ الہی مملکت میں پورا پورا انصاف ہے۔ اندھا دھند کارروائی نہیں ہوتی۔ دجالی اقوام کی بدکاریاں صرف ایک رنگ میں نہیں بلکہ کئی رنگوں میں صادر ہوتی ہیں۔ دجل کا کوئی پہلو نہیں جو انہوں نے دوسری قوموں پر ظلم کرنے اور انہیں گمراہ کرنے میں چھوڑا ہے۔ ایک ان کے اپنے گناہ ہیں دوسرے ان لوگوں کے گناہوں کا بوجھ ہے جن کو انہوں نے بد راہ کیا۔ اس لئے لفظ يُضعف اختیار کیا گیا ہے اور انہیں سزا بڑھ چڑھ کر ملے گی۔ اس آیت کی قراءت میں اختلاف ہوا ہے۔ جمہور کی قراءت میں يُضْعَفُ اور يَخُلد مجزوم ہیں۔ جس کا جواب يَلْقَ اناما ہے یعنی اپنی بدکاری کی سزا پائے گا: وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ يَلْقَ أَثَامًا يُضْعَفُ لَهُ الْعَذَابُ يَوْمَ الْقِيمَةِ وَ يَخْلُدُ فِيهِ مُهَانَّا (الفرقان : ۶۹، ۷۰) اور جو کوئی ایسا کام کرے گا وہ اپنے گناہ کی جزا کو دیکھ لے گا۔ قیامت کے دن اس کے لیے عذاب زیادہ کیا جائے گا اور وہ اس میں ذلت کے ساتھ رہتا چلا جائے گا۔ يَلْقَ اصل میں يَلْقَی ہے اور یاء حالت جزم میں ساقط ہو جاتی ہے اور بعد کی عبارت جواب ہے وَ مَنْ يَفْعَلْ ذلك کا۔ قاعدہ یہ ہے کہ جو فعل من سے مشروط ہو اس کے نتیجے میں جو فعل صادر صادر ہو وہ بھی مجزوم ہوتا ہے۔ اس لئے جمہور کی قراءت قاعدے کے لحاظ سے صحیح ہے اور وہی امام بخاری نے اختیار کی ہے۔ لیکن جمہور کے خلاف ابن عامر اور ابو بکر نے عاصم کے حوالے سے يُضْعَفُ اور يَخْلُدُ پڑھا ہے اور اسے جملہ مستعفہ قرار دیا ہے۔ (فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۶۲۸) یعنی الگ جملہ ہے۔ استعناف کی صورت میں فعل کو مجزوم کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ باب ٤ : الآمَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَأُولَئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيَّاتِهِمْ حَسَنَتٍ وَكَانَ اللهُ غَفُورًا رَّحِيمًا (الفرقان: ۷۱) مگر جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور ایمان کے مطابق نیک عمل کئے تو اللہ تعالیٰ ان کی بدیوں کو نیکیوں سے بدل دے گا۔ اللہ تعالیٰ بہت ہی پردہ پوش معاف کرنے والا اور نیکی کا بدلہ رحمت سے دینے والا ہے ٤٧٦٦ : حَدَّثَنَا عَبْدَانُ أَخْبَرَنَا أَبِي ۴۷۶۶: عبدان نے ہم سے بیان کیا کہ میرے عَنْ شُعْبَةَ عَنْ مَّنْصُورٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ باپ (عثمان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے شعبہ جُبَيْرٍ قَالَ أَمَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سے، شعبہ نے منصور سے، منصور نے سعید بن أَبْرَى أَنْ أَسْأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ هَاتَيْنِ جبیر سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: عبدالرحمن الْآيَتَيْنِ وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا بن ابزئی نے مجھے کہا کہ میں حضرت ابن عباس