صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 122
صحيح البخاری جلد ۱۲۲ ۶۵ کتاب التفسير / الفرقان ابْنُ عَبَّاسِ عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى وَمَنْ نے کہا: (عبد الرحمن) بن ابری کہتے تھے کہ يَقْتُلُ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ حضرت ابن عباس سے اللہ تعالیٰ کے قول وَمَنْ (النساء: ٩٤) وَقَوْلُهُ وَلَا يَقْتُلُونَ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ ، اور اس النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللهُ إِلَّا بِالْحَقِّ اس کے قول وَ لَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ حَتَّى بَلَغَ إِلَّا مَنْ تَابَ وَآمَنَ اللَّهُ إِلَّا بِالحق " کی بابت پوچھا گیا۔پھر میں K (الفرقان: ٦٩ - ٧١) فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ جب۔لَمَّا نَزَلَتْ قَالَ أَهْلُ مَكَّةَ فَقَدْ عَدَلْنَا آیت نازل ہوئی تو اہل مکہ نے کہا: ہم نے اللہ کے شریک بھی ٹھہرائے ہیں اور ناحق اس نفس کو بِاللَّهِ وَقَتَلْنَا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بھی قتل کیا ہے جس کو اللہ نے حرام یعنی قابل بِالْحَقِّ وَأَتَيْنَا الْفَوَاحِشَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عزت ٹھہر آیا ہے اور بے حیائی کے کام بھی کئے الا مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا ہیں۔اس پر اللہ نے یہ وحی کی۔یعنی مگر جس نے إِلَى قَوْلِهِ غَفُورًا رَّحِيمًا (الفرقان: ۷۱) توبہ کی اور ایمان لایا اور (ایمان کے مطابق) نیک عمل کئے تو اللہ تعالیٰ ان کی بدیوں کو نیکیوں سے بدل دے گا۔اللہ تعالیٰ بہت ہی پردہ پوش معاف کرنے والا اور نیکی کا بدلہ رحمت سے دینے والا ہے۔أطرافه : ۳۸۵۵، ٤٥۹۰ ٤٧٦٢ ، ٤٧٦٣، ٤٧٦٤، ٤٧٦٦ - شريح : يُضْعَفُ لَهُ الْعَذَابُ يَوْمَ الْقِيمَةِ وَيَخْلُدْ فِيهِ مُهَانًا: بدکاریوں کی سزا ظالم قوم کو بڑھ چڑھ کر دی جائے گی۔یعنی بہت سخت سزا لیکن يُضعف له سے یہ مراد نہیں ہے کہ ان کے اعمال سے دوگنی سزا دی جائے گی جو قانون مجازات کے خلاف ہے۔اللہ تعالیٰ بدی کی سزا اتنی ہی دیتا ہے جتنی کہ وہ ا ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع: ” اور جو جان بوجھ کر کسی مومن کو قتل کرے تو اس کی جزا جہنم ہے۔“ ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : اور کسی ایسی جان کو جسے اللہ نے حرمت بخشی ہو نا حق قتل نہیں کرتے اور زنا نہیں کرتے۔اور جو کوئی ایسا کرے گا گناہ کی سزا) پائے گا۔اس کے لیے قیامت کے دن عذاب بڑھایا جائے گا اور وہ اس میں لمبے عرصہ تک ذلیل و خوار حالت میں رہے گا۔سوائے اس کے جو توبہ کرے اور ایمان لائے۔“