صحیح بخاری (جلد یازدہم)

Page 99 of 260

صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 99

صحیح البخاری جلد قَالَتْ لَكِنْ أَنْتَ ۔۔۔۔۔ أطرافه: ٤١٤٦، ٤٧٥٦- ۹۹ ۶۵ - كتاب التفسير / النور یہ شعر سن کر حضرت عائشہ) فرمانے لگیں: مگر آپ تو ایسے نہیں۔ تشريح : يَعِظُكُمُ اللهُ أَنْ تَعُودُوا لِمِثْلِهِ اَبَدًا: ا: حضرت حسان بن ثابت ان لوگوں میں ۔ سے تھے جنہوں نے بہتان کا چرچا کیا تھا اور حضرت عائشہ نے ان کی اس کمزوری کی طرف اشارہ کیا ہے۔ یہ نابینا ہو گئے تھے تو حضرت عائشہ نے ان کی بینائی کے جاتے رہنے کو سزا پر محمول کیا ہے جو اسی دنیا میں انہیں مل گئی اور ان سے درگزر فرمایا اور اندر آنے کی اجازت دی۔ یہ اجازت دینا بھی آپ کے بلند اخلاق پر دلالت کرتا ہے۔ ۱۹) باب ۱۰ : وَيُبَيِّنُ اللهُ لَكُمُ الْآيَتِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ ( النور : ٩ اللہ تعالیٰ کا فرمانا:) اور اللہ تمہارے لئے ان آیات کو کھول کر بیان کرتا ہے اور اللہ علیم حکیم ہے ٤٧٥٦ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ۴۷۵۶ : محمد بن بشار نے ہمیں بتایا۔ ابوعدی کے حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِي أَنْبَأَنَا بیٹے نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں خبر دی۔ شُعْبَةُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي الضُّحَى اُنہوں نے اعمش سے، اعمش نے ابو الحی سے، ابو الضحیٰ نے مسروق سے روایت کی کہ انہوں نے عَنْ مَّسْرُوقٍ قَالَ دَخَلَ حَسَّانُ کہا: حضرت حسان بن ثابت حضرت عائشہ کے بْنُ ثَابِتٍ عَلَى عَائِشَةَ فَشَبَّبَ وَقَالَ: پاس آئے اور ان کی تعریف میں شعر کہے اور کہا: حَصَانٌ رَزَانٌ مَا تُزَنُّ بِرِيبَةٍ نہایت پاکدامن ہیں، نہایت باوقار ہیں کسی عیب وَتُصْبِحُ غَرْثَى مِنْ لُحُومِ الْغَوَافِلِ کا بھی شبہ ان پر نہیں جاتا اور بے خبر عورتوں کے گوشت سے بھوکی رہتی ہیں ( یعنی غیبت نہیں کرتیں ) قَالَتْ عَائِشَةُ لَسْتَ كَذَاكَ ۔ قُلْتُ حضرت عائشہ نے ( یہ شعر سن کر فرمایا: آپ تو تَدَعِينَ مِثْلَ هَذَا يَدْخُلُ عَلَيْكِ وَقَدْ ایسے نہیں۔ میں نے کہا: آپ ایسے شخص کو اپنے پاس آنے دیتی ہیں بحالیکہ اللہ نے یہ وحی نازل کی ہے: أَنْزَلَ اللَّهُ وَالَّذِي تَوَلَّى كِبْرَهُ مِنْهُمْ یعنی اور وہ شخص جس نے اُن میں سے اس بہتان (النور : ۱۲) فَقَالَتْ وَأَيُّ عَذَابٍ أَشَدُّ میں بڑا حصہ لیا۔ فرمانے لگیں: اور اندھا پن سے مِنَ الْعَمَى وَقَالَتْ وَقَدْ كَانَ يَرُدُّ زیادہ سخت اور کیا سزا ہو گی اور فرمایا کہ یہ (حسان )