صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 100
صحیح البخاری جلد ۱۰۰ ۶۵ - كتاب التفسير / النور عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رسول الله صلی علیم کی طرف سے (کفار کو ) جواب أطرافه: ٤١٤٦، ٤٧٥٥ دیا کرتے تھے۔ تشريح : وَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ الْأَيْتِ وَاللهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ : سابقہ باب کی آیت کے مابعد اللہ تعالٰی مذکورہ بالا آیت میں فرماتا ہے کہ وہ واقعات کی روشنی میں اپنے احکام کھول کھول کر بیان کر رہا ہے ، تاکسی حکم کے سمجھنے میں کوئی ابہام و شبہ نہ رہے۔ یہی طریق تنزیل اس کی صفت علیم و حکیم کا تقاضا ہے۔ اس باب کے تحت سابقہ باب کی روایت ہی کا اعادہ ایک دوسری سند سے کیا گیا ہے۔ اس سے اس کی صحت کو تقویت پہنچتی ہے۔ اس روایت میں حضرت حسان بن ثابت کو اندر آنے کی اجازت دینے کے لئے یہ وجہ بیان کی گئی ہے کہ وہ شعراء کفار کے مقابلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدافعت کیا کرتے تھے۔ اس لئے ان کی سابقہ خدمت کا پاس ہے ۔ لوگ بالعموم یہ بات بھول جاتے ہیں اور قدیم خدام کی عزت و قدر نہیں کرتے۔ حضرت عائشہ کے اس سلوک میں ہمارے لئے سی اہمارے لئے سبق ہے۔ اُنہوں ۔ ہے۔ اُنہوں نے حضرت حس حسان کی سابقہ خدمت کے پیش نظر اپنے ذاتی رنج کے احساس کو نظر انداز کر دیا۔ جس سے ظاہر ہے کہ ان کا اپنا ذاتی صدمہ لاشیئی ہے۔ کیا عمدہ اور سبق آموز جواب ہے۔ جو حضرت عائشہ عائشہ کی پاکیزہ نفسیات کی ترجمانی کرتا کرتا ہے ورنہ اتنا سنگین الزام ہو اور پھر عورت ذات اُسے بھو بھول جائے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق میں رنگین ہو چکی تھیں۔ فضائل عائشہ کے باب میں حضرت حسان کا ذکر امام بخاری بلا وجہ نہیں لائے۔ بَاب ۱۱ : إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَنْ تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَاللهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحمَتُهُ وَ أَنَّ اللهَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ) الله رَءُوفٌ رَّحِيمٌ ( النور : ۲۱،۲۰) وہ لوگ جو پسند کرتے ہیں کہ بے حیائی کی باتیں مومنوں میں پھیلیں اُن کو دنیا و آخرت میں دردناک عذاب ہو گا اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم دکھ میں پڑ جاتے) اور یہ کہ اللہ بہت ہی نرمی کرنے والا ہے اور بڑا مہربان ہے۔ { تَشِيعَ تَظْهَرُ } تشیع کے معنی ہیں ظاہر ہو، کھلم کھلا اعلان کیا جائے۔ وَلَا يَأْتَلِ أُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ أَنْ (اور اللہ تعالیٰ کا فرمانا:) اور تم میں سے اہلِ فضل يُؤْتُوا أُولِي الْقُرْبَى وَالْمَسْكِينَ وَالْمُهَاجِرِينَ اور کشائش والے قسم نہ کھائیں اور کوتاہی نہ کریں کہ ا یہ الفاظ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہیں۔ ( فتح الباری جزء ۸ حاشیہ صفحہ ۶۱۸) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔