صحیح بخاری (جلد یازدہم)

Page 98 of 260

صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 98

صحیح البخاری جلد ۹۸ ۶۵ - كتاب التفسير / النور ذریعہ سے جو تزکیۂ نفس صحابہ کرام کا ہوا اور دور و نزدیک رہنے والوں نے آپؐ کی تاثیر قدسی کی برکت سے جن پاکیزہ اخلاق کا جامہ زیب تن کیا، وہ آپ کے مز کی ہونے کی بہت بڑی شہادت ہے۔ ایسی صورت میں یہ ہو نہیں سکتا که قریب ترین اشخاص جن میں بیویوں سے بڑھ کر اور کوئی قریب ترین نہیں ہو سکتا فائدہ نہ اٹھاتے اور ایک ایسا فعل ان کی طرف منسوب کیا جاتا کہ جس سے ایک عام شریف انسان گھن کھاتا ہے۔ ایسی بات کو تسلیم کر لینا اور اس کا چرچا کرنا ایک نہایت ہی بڑا گناہ تھا جس کی وجہ سے مومنوں کو یہاں تنبیہ کی گئی ہے اور فرمایا گیا ہے کہ مَا يَكُونُ لَنا أنْ تَتَكَلَّمَ بهذا ( ہمیں شایاں نہیں کہ ایسی بات کے متعلق کوئی گفتگو کریں اور اس سے پہلے یہ ہدایت کی گئی ہے کہ مومن مردوں اور عورتوں کو اپنے متعلق حسن ظن سے کام لینا چاہیے اس طرح یہ ہدایت اثبات و نفی کی رو سے ایک کامل ہدایت ہے۔ باب ۹ : يَعِظُكُمُ اللَّهُ أَنْ تَعُودُهُ المِثْلِهِ أَبَدًا ( النور : ١٨) الآية اللہ تعالیٰ کا فرمانا: اللہ تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ پھر کبھی ایسی بات کی طرف عود (نہ) کرو ٤٧٥٥ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ۴۷۵۵: محمد بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ سُفیان ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے ، اعمش نے ابو الضحی سے ، ابوالضحیٰ نے مسروق أَبِي الضُّحَى عَنْ مَّسْرُوقٍ عَنْ سے، مسروق نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ روایت کی۔ فرماتی تھیں: حسان بن ثابت آئے جَاءَ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ يَسْتَأْذِنُ ان کے پاس آنے کی اجازت مانگنے لگے (مسروق عَلَيْهَا قُلْتُ أَتَأْذَنِينَ لِهَذَا قَالَتْ کہتے تھے کہ) میں نے کہا: کیا آپ انہیں اجازت أَوَلَيْسَ قَدْ أَصَابَهُ عَذَابٌ عَظِيمٌ دیں گی؟ فرمانے لگیں: کیا انہیں بڑا عذاب پہنچ قَالَ سُفْيَانُ تَعْنِي ذَهَابَ بَصَرِهِ نہیں گیا؟ سفیان کہتے تھے : (حضرت عائشہ کی) اس سے مراد حسان حسان کی بینائی کا چلا جانا تھا (حسان کو اجازت دی گئی) اُنہوں نے آکر شعر پڑھے فَقَالَ: (جن میں سے ایک شعر یہ ہے:) حَصَانٌ رَزَانٌ مَا تُزَنُّ بِرِيْبَةٍ یعنی نہایت پاکدامن ہیں، نہایت با وقار ہیں کسی عیب وَتُصْبِحُ غَرْثَى مِنْ لُحُومِ الْعَوَافِلِ کا بھی شبہ ان پر نہیں جاتا اور بے خبر عورتوں کے گوشت سے بھو کی رہتی ہیں (یعنی غیبت نہیں کرتیں )