صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 96
صحیح البخاری جلد १५ باب ۶۵ - كتاب التفسير / النور مه وَلَوْلَا إِذْ سَمِعْتُمُوهُ قُلْتُمْ مَّا يَكُونُ لَنَا أَنْ تَتَكَلَّمَ بِهَذَا سُبْحَنَكَ هُذَا بُهْتَان عَظِيمٌ اللہ تعالیٰ کا فرمانا: جب تم نے یہ بات سنی تھی تو کیوں نہ کہہ دیا کہ ہمیں شایاں نہیں کہ ایسی بات کے متعلق کوئی گفتگو کریں۔ پاک ذات ہے تو ، یہ تو بہت بڑا بہتان ہے۔ (النور:۱۷) ٤٧٥٣ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ۴۷۵۳ : محمد بن مثنیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ یچی حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدِ بن سعید قطان) نے ہمیں بتایا۔ عمر بن سعید بن بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ الى حسین سے روایت ہے ، انہوں نے کہا: ابو ملیکہ کے بیٹے نے مجھ سے بیان کیا، کہا: حضرت أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ اسْتَأْذَنَ ابْنُ عَبَّاسٍ ابن عباس نے حضرت عائشہ کے پاس ان کے قُبَيْلَ مَوْتِهَا عَلَى عَائِشَةَ وَهِيَ فوت ہونے سے پہلے آنے کی اجازت طلب کی اور مَعْلُوبَةٌ قَالَتْ أَخْشَى أَنْ يُثْنِيَ وہ نڈھال پڑی تھیں۔ حضرت عائشہ نے فرمایا: میں عَلَيَّ فَقِيلَ ابْنُ عَمِّ رَسُولِ اللهِ ڈرتی ہوں کہ کہیں وہ میری تعریف نہ کریں۔ ان صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمِنْ وُجُوهِ سے کہا گیا: یہ رسول اللہ صلی السلام کے چازاد ازاد ہیں اور الْمُسْلِمِينَ قَالَتِ ائْذَنُوا لَهُ۔ فَقَالَ معزز مسلمانوں میں سے ہیں۔ فرمانے لگیں: انہیں كَيْفَ تَجِدِينَكِ قَالَتْ بِخَيْرٍ إِنِ اجازت دے دو۔ حضرت ابن عباس نے کہا: آپ اتَّقَيْتُ۔ قَالَ فَأَنْتِ بِخَيْرٍ إِنْ شَاءَ اپنے آپ کو کیسا پاتی ہیں؟ فرمانے لگیں: اچھی ہوں اگر متقی ہوں۔ حضرت ابن عباس نے کہا: آپ اللهُ تَعَالَى زَوْجَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ الترسل انشاء اللہ اچھی ہی۔ ہی ہیں، رسول اللہ صلی العلیم کی زوجہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَنْكِحْ بِكْرًا غَيْرَكِ ہیں۔ آنحضور نے آپ کے سوا کسی کنواری سے وَنَزَلَ عُذْرُكِ مِنَ السَّمَاءِ۔ وَدَخَلَ نکاح نہیں کیا اور آپ کی بریت تو آسمان سے ابْنُ الزُّبَيْرِ خِلَافَهُ فَقَالَتْ دَخَلَ ابْنُ نازل ہوئی۔ حضرت ابن عباس کے جانے کے عَبَّاسٍ فَأَثْنَى عَلَيَّ وَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ بعد حضرت ابن زبیر آئے تو کہنے لگیں: ابن عباس