صحیح بخاری (جلد یازدہم) — Page 97
صحيح البخاری جلد نَسْيًا مَنْسِيًّا۔أطرافه: ٣٧٧١، ٤٧٥٤۔94 ۶۵ کتاب التفسير / النور آئے تھے اور اُنہوں نے میری تعریف کی بحالیکہ میں نے آرزو کی تھی کہ کاش میں بھولی بسری رہتی میری تعریف میں کوئی ذکر نہ ہوتا ) ٤٧٥٤ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى :۴۷۵۴: محمد بن مثنیٰ نے ہمیں بتایا۔عبد الوہاب حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ بن عبد المجید نے ہم سے بیان کیا کہ (عبد اللہ ) بن حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَن الْقَاسِم عون نے ہمیں بتایا، قاسم ( بن محمد بن ابی بکر) سے أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ الله عنه روایت ہے کہ حضرت ابن عباس اللہ نے حضرت اسْتَأْذَنَ عَلَى عَائِشَةَ، نَحْوَهُ وَلَمْ عائشہ کے پاس آنے کی اجازت مانگی اور پھر اُنہوں نے یہی بات بیان کی (جو اوپر گزر چکی ہے ) يَذْكُرْ نَسْيًا مَنْسِيًّا۔أطرافه: ۳۷۷۱، ٤٧٥٣۔مگر اُنہوں نے بھولی بسری کے الفاظ ذکر نہیں کئے تشريح : وَلَوْلَا إِذْ سَمِعْتُمُوهُ قُلْتُمْ مَّا يَكُونُ لَنَا أَنْ تَتَكَلَّمَ بِهَذَا: عنوانِ باب کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ مناقب سے نہیں بلکہ فضیلت سے قائم کیا گیا ہے۔کیونکہ اس باب کے تحت جن روایتوں کا ذکر ہے ان میں حضرت عائشہ کے فضائل کا ہی ذکر ہے۔ایسا تصرف امام بخاری نے بعض دوسروں کے متعلق بھی ملحوظ رکھا ہے۔بہر حال جو روایتیں پہلے گزر چکی ہیں اور باب زیر شرح کی روایتوں میں ہیں وہ آپ کی غایت درجہ تقویٰ اور بہت بلند درجے پر دلالت کرتی ہیں۔اللَّهُمَّ صَلَّ عَلَى مُحَمَّد وَعَلَى آلِهِ۔ساری عمر نیکیاں بجالاتی رہیں نہ صرف عورتوں میں سلسلہ تعلیم جاری رکھا اور ان کی خیر خواہی میں شب و روز مشغول رہیں بلکہ مردوں نے بھی اُن سے اکتساب فیض کیا وہ مجتہد اور فقیہ خاتون تھیں۔باوجود ان تمام خوبیوں کے اپنے دل میں اپنی کسی خوبی کا خیال تک نہیں آنے دیا اور پسند نہیں کیا کہ کوئی اُن کے سامنے اُن کی تعریف کرے۔کیا ہی پاکیزہ نفس خاتون تھیں۔بہتان طرازی کے متعلق جو ہدایت مذکورہ بالا آیت میں ہے وہ ایک قیمتی ہدایت ہے۔عام طور پر لوگوں میں یہ کمزوری پائی جاتی ہے کہ اپنے لوگوں میں سے کسی کی نسبت کوئی بری بات سنیں تو اس پر نہ صرف یقین کر لیتے ہیں بلکہ دوسروں تک پہنچانے میں مزہ لیتے ہیں۔اس طرح اپنے اخلاق کو بھی خراب کرتے ہیں اور دوسروں کے بھی۔اس سے منع کیا گیا ہے۔اس بارے میں پوری آیت یہ ہے : وَلَوْلَا إِذْ سَمِعْتُمُوهُ قُلْتُم مَّا يَكُونُ لَنَا أَنْ تَتَكَلَّمَ بِهَذَا سُبْحَنَكَ هذَا بُهْتَان عَظِيمٌ ) ( النور : ۱۷) یعنی اور کیوں نہ جب تم نے یہ بات سنی تھی کہہ دیا کہ ہمارے لئے یہ شایاں نہیں کہ ہم ایسی بات کے متعلق گفتگو کریں۔پاک ذات ہے تو یہ بہت ہی بڑا بہتان ہے۔سبحنك سے یہ بتایا گیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بطور مز کی مبعوث ہوئی تھی اور آپ کے