صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 70
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۷۰ ۲۵ - کتاب التفسير / البقرة گلا کاٹنے سے، تا مذہب غیر اللہ کا ہو۔ کیونکہ خانہ جنگی کی بناء سیاسی اغراض پر ہے کہ ایک فریق حکومت پر قابض ہو اور لوگوں کا خدا بنے، جیسا کہ خاندان بنی امیہ یا خاندان بنی عباس نے کیا۔ خانہ جنگی والی صورت سے متعلق الگ حکم ہے جو آیت وَإِنْ طَائِفَيْنِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا (الحجرات: ۱۰) میں بیان ہوا ہے۔ دونوں حکموں میں نوعیت کا فرق ہے۔ پہلا حکم خالص جہاد فی سبیل اللہ کا ہے کہ اس میں مذہبی آزادی کی بحالی مقصود ہے۔ سیاسی غرض مد نظر نہیں اور اس میں محرکات جنگ بالکل الگ ہیں۔ نیک نیتی ہو تو اس میں شمولیت عام قسم کا جہاد کہلائے گا، لیکن دونوں جہادوں کے ثواب میں فرق ہے۔ وَزَادَ عُثْمَانُ بْنُ صَالِحٍ عَنِ ابْنِ وَهْبِ قَالَ أَخْبَرَنِي فُلان: اس سند کے راوی عثمان بن صالح امام بخاری کے شیوخ میں سے ہیں۔ فلاں سے مراد بعض نے عبد اللہ بن لہیعہ لئے ہیں۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۲۳۱) سورۃ الانفال کی تفسیر میں یہی روایت زیر باب ۵ صرف حیوہ کی سند سے مروی ہے۔ (دیکھئے روایت نمبر ۳۶۵۰) باب ۳۱ وَ انْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللهِ وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ وَأَحْسِنُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ (البقرة: ١٩٦) اللہ تعالیٰ کا فرمانا: ) تم اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں ہلاکت میں مت ڈالو اور احسان کرو۔ اللہ محسنوں سے محبت رکھتا ہے۔ التَّهْلُكَةِ وَالْهَلَاكُ وَاحِدٌ۔ التهلكة اور الْهَلَاكُ ایک ہی ہیں۔ ٤٥١٦ : حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا ۴۵۱۶: اسحاق نے ہم سے بیان کیا کہ نفر (بن النَّضْرُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ قَالَ شمیل) نے ہمیں خبر دی کہ شعبہ نے ہمیں بتایا سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ عَنْ حُذَيْفَةَ وَ انْفِقُوا که سلیمان سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا: میں رم فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَی نے ابو وائل سے سنا۔ وہ حضرت حذیفہ سے روایت کرتے تھے کہ انہوں نے کہا: وَ انْفِقُوا فِی التهلكة (البقرة: ١٩٦) قَالَ نَزَلَتْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ ۔ النَّفَقَةِ۔ ا خرچ کرنے کی بابت نازل ہوئی۔ ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : اگر مومن ر مومنوں میں سے دو جماعتیں آپس میں لڑ پڑیں۔“ ترجمه حضرت خليفة المسيح الرابع: "اور اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں (اپنے تئیں) ہلاکت میں نہ ڈالو۔“