صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 63
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۶۳ ۲۵ - کتاب التفسير / البقرة باب ۲۸ : وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى الَّيْلِ وَلَا تُبَاشِرُوهُنَّ وَأَنْتُمْ عَلِفُونَ فِي الْمَسْجِدِ إِلَى قَوْلِهِ يَتَّقُونَ (البقرة: ۱۸۸) اللہ تعالیٰ کا فرمانا: ) اور کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ تمہیں صبح کی سفید دھاری سیاہ دھاری سے الگ نظر آنے لگے اس کے بعد ( صبح سے رات تک روزوں کی تکمیل کرو۔ اور جب تم مساجد میں مختلف ہو تو ان کے (یعنی بیویوں کے ) پاس نہ جاؤ۔ یہ اللہ کی (مقرر کردہ ) حدیں ہیں، اس لئے تم ان کے قریب (بھی) مت جاؤ۔ اللہ اسی طرح لوگوں کے لئے اپنے احکامات بیان کرتا ہے تا کہ وہ ( ہلاکتوں سے ) بچیں۔ الْعَاكِفُ (الحج: ٢٦) الْمُقِيمُ۔ عاکف کے معنی مقیم کے ہیں یعنی (عبادت کے لئے ) ٹھہرنے والا۔ ٤٥٠٩ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ ۴۵۰۹: موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ کیا کہ ابو عوانہ نے ہمیں بتایا ۔ انہوں نے حصین حُصَيْنٍ عَنِ الشَّعْبِي عَنْ عَدِيٌّ قَالَ ( بن عبد الرحمن ) سے حصین نے (عامر) شعبی سے، أَخَذَ عَدِيٌّ عِقَالًا أَبْيَضَ وَعِقَالًا شعبی نے حضرت عدی بن حاتم) سے روایت کی أَسْوَدَ حَتَّى كَانَ بَعْضُ اللَّيْلِ نَظَرَ کہ انہوں نے کہا: حضرت عدی نے ایک سفید فَلَمْ يَسْتَبِيْنَا فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ يَا ڈوری اور ایک سیاہ ڈوری لی۔ کچھ رات گزری، رَسُولَ اللَّهِ جَعَلْتُ تَحْتَ وِسَادِي انہوں نے دیکھا تو کچھ امتیاز نہ کر سکے۔ جب صبح عِقَالَيْنِ } قَالَ إِنَّ وِسَادَكَ إِذَا ہوئی انہوں نے کہا: یا رسول اللہ ! میں نے اپنے لَعَرِيضُ أَنْ كَانَ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ تکیے کے نیچے دو ڈوریاں رکھی تھیں۔ آپ نے فرمایا: وَالْأَسْوَدُ تَحْتَ وِسَادَتِكَ۔ اطرافه: ١٩١٦، ٤٥١٠ تب تو تمہارا تکیہ بہت ہی لمبا چوڑا ہے ، اس لئے کہ سفید اور سیاہ دھاری تمہارے تکیہ کے نیچے ساگئی۔ ٤٥١٠ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ۴۵۱۰: قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ جریر حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے مطرف سے، مطرف 66 ا لفظ " عِقَالَین" عمدة القاری کے مطابق ہے۔ (عمدۃ القاری جزء ۱۸ صفحہ ۱۰۷) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔