صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 62 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 62

صحيح البخاری جلد ۱۰ ۶۲ ۲۵ - کتاب التفسير / البقرة ريح : أَحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصَّيَامِ الرَّفَثُ إِلَى نِسآپکھر : شریعت اسلام نے طلوع فجر سے لے کر نِسَابِكُمْ غروب آفتاب تک روزے کا وقت مقرر کیا ہے۔رات کا وقت اس سے مستثنیٰ ہے۔كُنْتُمْ تَخْتَانُونَ اَنْفُسَكُمُ : اس کا مفہوم یہ ہے کہ یہودیوں کے دستور کے مطابق رات کا وقت روزہ کا حصہ شمار کر کے تم اپنی بیویوں کے پاس نہیں جایا کرتے تھے۔(فتح الباری، شرح کتاب الصوم، باب ۱۵ جزء ۴ صفحه ۱۶۷) یہ اس لحاظ سے خیانت نفس ہے کہ وہ اپنے حق سے محروم رکھا جاتا ہے۔ازدواجی تعلق کی غرض وغایت بقائے سلسلہ نسل ہے۔اس سے نفس کو محروم رکھنا درست نہیں۔اس آیت سے یہ سمجھنا کہ صحابہ کر اہم بھی اپنی بیویوں سے بحالت روزہ مباشرت کر کے الہی حکم کی خلاف ورزی کرتے تھے ، درست نہیں۔کیونکہ اول تو اس بارہ میں ازدواجی تعلق سے رُکنے کا حکم نازل ہی نہ ہوا تھا۔یہ امر خیانت نفس تو کہلا سکتا ہے کہ نفس کو اس کے حق سے محروم رکھا جائے۔مگر الہی حکم کی خیانت نہیں کہلا سکتا جو نازل ہی نہ ہوا تھا۔روایت نمبر ۴۵۰۸ میں نفس پر حد درجہ کی سختی کا ذکر ہے۔اس میں صراحت ہے کہ صحابہ کرائم بحالت روزہ اپنی جان پر سختی برداشت کیا کرتے تھے۔اس امر واقعہ کے خلاف آیت مذکورہ بالا سے مذکورہ نتیجہ اخذ کرنا کس طرح درست ہو سکتا ہے۔یہ واقعہ تو محولہ بالا آیت کا صحیح مفہوم بیان کرنے کی غرض سے درج کیا گیا ہے۔جن لوگوں نے آیت کا یہ مفہوم لیا ہے کہ صحابہ کرائم بحالت روزہ ازدواجی تعلق سے پر ہیز نہیں کرتے تھے۔انہوں نے آیت کے الفاظ مد نظر نہیں رکھے۔لفظ تَخْتَانُونَ، خَتَنَ سے ہے جس کے معنی کاٹنے اور کم کرنے کے ہیں۔اس سے لفظ ختنہ اور مختون ہے۔کہتے ہیں: عَام مَختُوبُ یعنی قحط کا سال۔(اقرب الموارد- ختن) اس اشتقاق کی رُو سے آیت کا مفہوم یہ ہے کہ تم اپنے نفسوں کو اُن کے حق سے محروم کرتے تھے۔غرض ایسے لوگوں نے آیت کا سیاق ملحوظ نہیں رکھا اور نہ لفظ تختانون اور مندرجہ بالا روایت کی بین شہادت، تینوں باتیں ہی ان کے خیال کو رڈ کرتی ہیں۔۔