صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 22
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۲۲ ۶۵ - کتاب التفسير / البقرة یقینا تمہارا کھلا (کھلا) دشمن ہے۔ اس میں لفظ خُطُوتِ ، خُطوة کی جمع ہے یعنی نشانِ قدم ۔ شیطان کے نشان قدم کی پیروی نہ کرو۔ مجاہد نے خطائی یعنی اس کے قدم معنی کئے ہیں۔ قتادہ کے نزدیک ہر معصیت (نافرمانی ) خُطُواتِ الشَّيْطَنِ میں شامل ہے۔ اس کے معنی نزغَاتُ الشَّيْطَان ( شیطانی تحریکات ) بھی کئے گئے ہیں۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۲۰۴) آیت وَإِذِ ابْتَلَى إِبْرَاهِمَ رَبُّهُ بِكَلِمَةٍ فَاتَتَهُنَ ۔ (البقرة: (البقرۃ: ۱۲۵) میں ابتکی کے معنی اختبر آزمایا، امتحان لیا۔ یہ تفسیر ابو عبیدہ کی ہے۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۲۰۵) بَاب : قَوْلُهُ تَعَالَى فَلَا تَجْعَلُوا لِلَّهِ أَنْدَادًا وَ أَنْتُمْ تَعْلَمُونَ (البقرة: ٢٣) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: پس تم سمجھتے بوجھتے ہوئے اللہ کے ہمسر نہ بناؤ ٤٤٧٧ : حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي ۴۴۷۷ عثمان بن ابی شیبہ نے مجھ سے بیان شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ کیا، کہا :) جریر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ عَنْ منصور سے، منصور نے ابووائل سے، ابو وائل عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ نے عمرو بن شرحبیل سے، انہوں نے حضرت عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الذَّنْبِ أَعْظَمُ عِنْدَ عبد اللہ (بن مسعود) سے روایت کی۔ انہوں نے اللهِ قَالَ أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ کہا : میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اللہ خَلَقَكَ قُلْتُ إِنَّ ذَلِكَ لَعَظِيْمٌ قُلْتُ کے نزدیک کونسا گناہ سب سے بڑا ہے؟ آپ نے ثُمَّ أَيُّ قَالَ وَأَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ تَخَافُ فرمایا یہ کہ اللہ کا ہمسر بناؤ، حالانکہ اُس نے تم کو أَنْ يَطْعَمَ مَعَكَ قُلْتُ ثُمَّ أَيُّ قَالَ أَنْ پیدا کیا ہے۔ میں نے کہا: یہ تو بہت بڑا گناہ ہے۔ میں نے پوچھا: پھر (اس کے بعد ) کونسا ؟ آپ تُزَانِيَ حَلِيْلَةَ جَارِكَ۔ نے فرمایا: اور یہ کہ تم اپنی اولاد کو مار ڈالو، اس ڈر سے کہ وہ تمہارے ساتھ کھائیں۔ میں نے پوچھا: پھر کونسا ؟ آپ نے فرمایا کہ تو اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرے۔ أطرافه: ٤٧٦١، ٦٠٠١، ٦٨١١، ٦٨٦١، ٧٥٢٠، ٧٥٣٢۔ ا ترجمه حضرت خليفة المسيم الراب المسيح الرابع : اور جب ابراہیم کو اس کے رب نے بعض کلمات سے آزمایا اور اس نے ان سب کو پورا کر دیا۔“