صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 23 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 23

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۶۵ - کتاب التفسير / البقرة تشریح: فَلَا تَجْعَلُوا لِلهِ أَنْدَادًا وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُونَ : يه سورۃ البقرۃ کی آیت نمبر ۲۳ ہے۔جس سے عنوانِ باب قائم کیا گیا ہے۔لفظ اندادا جمع ہے بیڈ کی، بمعنی نظیر یعنی مثل، ہمسر۔اس باب کے تعلق میں روایت نمبر۴۴۷۷ نقل کی گئی ہے، جس میں شرک باللہ ، قتل اولاد اور زنا ( آکبر الکبائر ) سب سے بڑے گناہ قرار دیئے گئے ہیں۔جبکہ کتاب الشهادات (روایت نمبر (۲۶۵۴) میں شرک باللہ کے ساتھ والدین کی نافرمانی اور جھوٹ بولنے کو اکبر الکبائر کہا گیا ہے۔بڑا چھونا گناہ یا نیکی ایک اضافی یعنی نسبتی امر ہے۔اکبر الکبائر سے یہ مراد نہیں کہ صرف یہی باتیں گناہِ کبیرہ ہیں بلکہ اور بھی ایسے امور ہیں ، جیسا کہ روایت نمبر ۲۷۶۶ میں ( السَّبْعُ الْمُؤبقات) سات ہلاک کرنے والی باتوں کا ذکر ہے۔بَاب ٤ : وَظَلَّلْنَا عَلَيْكُمُ الْغَمَامَ وَ أَنْزَلْنَا عَلَيْكُمُ الْمَنَّ وَالسَّلوى ط (اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: ) اور ہم نے تم پر بادلوں کا سایہ کیا اور تمہارے لئے من و سلوی اُتارے كُلُوا مِنْ طَيِّبَتِ مَا رَزَقْنَكُمْ وَمَا ظَلَمُونَا ( اور کہا کہ ان پاک چیزوں میں سے جو ہم نے تم کو وَلكِن كَانُوا أَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ دی ہیں کھاؤ۔اور انہوں نے (نافرمانی کر کے ) ہمارا (البقرة: ۵۸) نقصان نہیں کیا بلکہ وہ اپنا ہی نقصان کر رہے تھے۔وَقَالَ مُجَاهِدٌ : الْمَنُ صَمْغَةٌ مجاہد نے کہا: من ( ایک درخت کی) گوند ہے اور سکوی پرندے ہیں۔وَالسَّلْوَى الطَّيْرُ۔٤٤٧٨: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا :۴۴۷۸ ابونعیم نے ہم سے بیان کیا، (کہا: ) سفیان سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ عَنْ عَمْرِو (ثوری) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عبدالملک بْنِ حُرَيْثٍ عَنْ سَعِيدِ بن زید سے، عبد الملک نے حضرت عمرو بن حریث سے، اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ حضرت عمرو نے حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ رَضِيَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَمْأَةُ مِنَ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھمبی بھی من ہی ہے اور اس الْمَنِّ وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ۔أطرافه: ٤٦٣٩ ، ٥٧٠٨ تشریح: کا پانی آنکھوں کے لئے شفا کا موجب ہوتا ہے۔وظللنا عَلَيْكُمُ الْغَمَامَ وَ اَنْزَلْنَا عَلَيْكُمُ الْمَن والسلوى : معنونہ آیت میں الْمَنَ وَالسَّلومی بنی اسرائیل کو عطا کئے جانے کا ذکر ہے۔مجاہد نے الْمَنَّ سے گوند اور السلوى سے پرندے مراد لئے ہیں۔ان کی یہ شرح فریابی سے موصولاً مروی ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۲۰۵) عنوانِ باب