صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 23
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۲۳ ۶۵ - کتاب التفسير / البقرة تشريح : فَلَا تَجْعَلُوا لِلَّهِ أَنْدَادًا وَ أَنْتُمْ تَعْلَمُونَ: یہ سورۃ البقرۃ کی آیت نمبر ۲۳ ہے۔ جس سے عنوان باب قائم کیا گیا ہے۔ لفظ اندادا جمع ہے یڈ کی، بمعنی نظیر یعنی مثل، ہمسر ۔ اس باب کے تعلق میں روایت نمبر ۷ ۴۴۷ نقل کی گئی ہے، جس میں شرک باللہ ، قتل اولاد اور زنا ( آن بر الكبائر ) سب سے بڑے گناہ قرار دیئے گئے ہیں۔ جبکہ کتاب الشهادات (روایت نمبر ۲۶۵۴) میں شرک باللہ کے ساتھ والدین کی نافرمانی اور جھوٹ بولنے کو آئی بَر الکبائر کہا گیا ہے۔ بڑا چھوٹا گناہ یا نیکی ایک اضافی یعنی نسبتی امر ہے۔ اسی بر الكبائر سے یہ مراد نہیں کہ صرف یہی باتیں گناہِ کبیرہ ہیں بلکہ اور بھی ایسے امور ہیں ، جیسا کہ روایت نمبر ۲۷۶۶ میں السَّبْعُ الْمُؤْبِقَات) سات ہلاک کرنے والی باتوں کا ذکر ہے۔ باب ٤ : وَظَلَّلْنَا عَلَيْكُمُ الْغَمَامَ وَ أَنْزَلْنَا عَلَيْكُمُ الْمَنَّ وَالسَّلوى ( اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: ) اور ہم نے تم پر بادلوں کا سایہ کیا اور تمہارے لئے من و سلوی اُتارے كُلُوا مِنْ طَيِّبَتِ مَا رَزَقْنَكُمْ وَمَا ظَلَمُونَا (اور کہا کہ ) ان پاک چیزوں میں سے جو ہم نے تم کو ولكن كَانُوا أَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ ) دی ہیں کھاؤ۔ اور انہوں نے (نافرمانی کرکے ) ہمارا (البقرۃ:۵۸) نقصان نہیں کیا بلکہ وہ اپنا ہی نقصان کر رہے تھے۔ وَقَالَ مُجَاهِدٌ : الْمَنُّ صَمْعَةٌ مجاہد نے کہا: من ( ایک درخت کی ) گوند ہے اور وَالسَّلْوَى الطَّيْرُ۔ سکوی پرندے ہیں۔ ٤٤٧٨ : حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا ۴۴۷۸: ابونعیم نے ہم سے بیان کیا، (کہا: ) سفیان سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ عَنْ عَمْرِو (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبدالملک بْنِ حُرَيْثٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ سے، عبد الملک نے حضرت عمرو بن حریث سے، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ حضرت عمر نے حضرت رت سعید بن زید رضی اللہ عنہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَمْأَةُ مِنَ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھمبی بھی من ہی ہے اور اس الْمَنِّ وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ۔ أطرافه: ٤٦٣٩ ، ٥٧٠٨ کا پانی آنکھوں کے لئے شفا کا موجب ہوتا ہے۔ تشريح : وَظَلَّلْنَا عَلَيْكُمُ الْغَمَامَ وَ أَنْزَلْنَا عَلَيْكُمُ الْمَنَّ وَالسَّلوى: معنون آیت میں الْمَنَّ وَ السلوى بنی اسرائیل کو عطا کئے جانے کا ذکر ہے۔ مجاہد نے المَن سے گوند اور السلوى سے پرندے مراد لئے ہیں۔ ان کی یہ شرح فریابی سے موصولاً مروی ہے۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحه ۲۰۵) عنوان باب