صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 221
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۲۲۱ ۶۵ - کتاب التفسير / النساء مَالِهِ بِمَا شَرِكَتْهُ فَيَعْضُلُهَا فَنَزَلَتْ نہیں کرتے مگر ان سے نکاح کرنا چاہتے ہو۔ هَذِهِ الْآيَةُ۔ حضرت عائشہ فرماتی تھیں: اس سے مراد وہ شخص ہے جس کے پاس یتیم لڑکی ہو ، وہ اس کا سر پرست بھی ہو اور اس کا وارث بھی ہو۔ یعنی وہ اس کی جائیداد میں اس کی شریک ہو۔ یہاں تک کہ کھجور کے ایک درخت میں بھی وہ اس کی شریک ہو) اس وجہ سے وہ اس سے نکاح کرنے کی خواہش رکھتا ہو اور ناپسند کرتا ہو کہ وہ اس کو کسی دوسرے شخص سے بیاہ دے۔ مبادا وہ شخص اس کی جائیداد میں شریک ہو جائے۔ کیونکہ وہ اس کی شریک تھی اور اس خیال سے وہ اس کو نکاح کرنے سے روک رکھے تو یہ آیت اس کے متعلق نازل ہوئی۔ أطرافه: ٢٤٩٤ ، ٢٧٦٣ ، ٤٥٧٣، ٤٥٧٤، ٥٠٦٤ ، ۵۰۹۲، ۵۰۹۸، ۵۱۲۸، 513۱، 5140، 6965- تشريح : وَ يَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ قُلِ اللهُ يُفْتِيْكُمْ فِيهِنَّ: ابن ابی حاتم نے بسند سدی نقل کیا ہے کہ حضرت جابر کی چچا زاد بہن تھی جو زاد بہن تھی جو خوش شکل نہ تھی اور اسے باپ حضرت جابر کو نہ خود اس سے نکاح کرنا پسند تھا اور نہ کسی اور سے، مبادا وہ خاوند اس کا مال خرد برد کرے۔ آنحضرت سے ورثہ ملا۔ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے فتوی دریافت کرنے پر اس آیت کی طرف توجہ دلائی۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحه ۳۳۵) اسی قسم کے واقعات کے انسداد سے متعلق آیت محولہ بالا کا شان نزول ہے۔ بَاب ٢٤ : وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا (النساء: ١٢٩) (اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: ) اور اگر کوئی عورت اپنے خاوند کی طرف سے نفرت یا رو گردانی کا خوف کرے قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ شِقَاقَ تَفَاسُدٌ۔ حضرت ابن عباس نے کہا کہ ( یہ آیت جو ہے: وَ أَحْضِرَتِ الْأَنْفُسُ الشَّحَّ (النساء : ۱۲۹) وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا ۔ یعنی اگر تمہیں ان & قَالَ هَوَاهُ فِي الشَّيْءِ يَحْرِصُ عَلَيْهِ۔ دونوں کے درمیان ناچاقی کا خوف ہو تو یہاں ) كَالْمُعَلَّقَةِ (النساء : ١٣٠) لَا هِيَ أَيِّمْ شِقَاق سے مراد یا ہی بگاڑ ہے ، اور احْضِرَتِ الْأَنْفُسُ