صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 208
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۲۰۸ ۶۵ - کتاب التفسير / النساء نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَ مَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا حضرت ابن عباس کے پاس ( پوچھنے ) گیا اور میں مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ (النساء : ٩٤) نے ان سے اس کی بابت پوچھا۔ انہوں نے کہا: هِيَ آخِرُ مَا نَزَلَ وَمَا نَسَخَهَا شَيْءٌ یہ آیت وَ مَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ ان ان آخری آیتوں میں سے۔ میں سے ہے جو ہے جو نازل ہوئیں اور اس کو کسی آیت نے منسوخ نہیں کیا۔ أطرافه: ٣٨٥٥ ٤٧٦٢ ، ٤٧٦٣، ٤٧٦٤، ٤٧٦٥، ٤٧٦٦۔ تشريح : وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ : معنونه آیه افَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ : معنونہ آیت کی نسبت علماء کوفہ کے در میان اختلاف ہوا ہے۔ ان میں سے بعض نے اسے منسوخ سمجھا ہے کہ ان کے نزدیک دیت کے بارے میں احکام بعد میں نازل ہوئے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت زیر باب میں بایں الفاظ صراحت ہے: وَمَا نَسَخَهَا شَی کسی شے نے اسے منسوخ نہیں کیا۔ بی آخِرُ مَا نَزَل سے مراد یہ ہے کہ دیت کے بارے میں یہ آخری حکم ہے جو نازل ہوا ہے۔ پوری آیت یہ ہے: وَ وَ مَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَلِدًا فِيهَا وَ غَضِبَ اللهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ لَهُ عَذَا عَذَابًا عَظِيمًا ( (النساء النساء : ۹۴) اور جو جو ) (شخص) کسی مومن کو کو دانستہ دانستہ قتل کر دے تو اس کی سزا جہنم ہو گی۔ وہ اس میں دیر تک رہتا چلا جائے گا اور اللہ اس سے ناراض ہو گا اور اسے ( اپنی جناب سے ) دور کر دے گا اور اس کے لئے (بہت) بڑا عذاب تیار کرے گا۔ اس آیت سے ما قبل آیت ۹۳ میں احکام جرم قتل دبیت و کفارہ گناہ کا ذکر ہے۔ جہنم کی سزا آخر دی پاداش ہے جو دنیوی سزا کے منافی نہیں۔ کیونکہ یہ سزا جزوی ہے۔ مذکورہ بالا آیت کے شان نزول کی نسبت ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر کی ایک روایت نقل کی ہے جو امام بخاری کی معیاری شرائط صحت کے مطابق نہیں۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۳۲۵) باب ۱۷ وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ الْقَى إِلَيْكُمُ السَّلْمَ لَسْتَ مُؤْمِنَّا (النساء : ٩٥) اللہ تعالیٰ کا فرمانا:) یعنی جو تمہیں سلام کہے تم اس کو مت کہو کہ تم مومن نہیں۔ السَّلَمُ، وَالسَّلَامُ ، وَالسّلْمُ وَاحِدٌ السَّلَمُ ، السَّلام اور السلم ایک ہی معنی میں ہیں۔ یعنی صلح اور سلامتی۔ ٤٥٩١ : حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ ۴۵۹۱: علی بن عبد اللہ (مدینی) نے مجھ سے بیان حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عَطَاءٍ کیا کہ سفیان بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں ترجمه حضرت خليفة المسير الرابع : ” اور جو جان بوجھ کر کسی مومن کو قتل کرے تو اس کی جزا جہنم ہے۔“ ا