صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 209 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 209

صحيح البخاری جلد ۱۰ ۲۰۹ ۲۵ - کتاب التفسير / النساء عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَلا نے عمرو بن دینار) سے، عمرو نے عطاء سے ، عطاء تَقُولُوا لِمَنْ اَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلمَ لَسْتَ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت مُؤْمِنًا (النساء: ٩٥) قَالَ قَالَ ابْنُ کی کہ آیت وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلمَ عَبَّاسٍ كَانَ رَجُلٌ فِي غُنَيْمَةٍ لَهُ فَلَحِقَهُ لَسْتَ مُؤْمِنًا (کے متعلق عطاء) کہتے تھے: حضرت ابن عباس نے کہا: ایک شخص اپنی تھوڑی الْمُسْلِمُونَ فَقَالَ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ سی بکریوں میں تھا۔مسلمانوں نے اس کا پیچھا کیا۔فَقَتَلُوهُ وَأَخَذُوا غُنَيْمَتَهُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ اس نے کہا: السلام علیکم۔مگر انہوں نے اس کو مار فِي ذَلِكَ إِلَى قَوْلِهِ عَرَضَ الْحَيَوةِ ڈالا اور اس کی بکریاں لے لیں۔پھر اللہ نے اس الدُّنْيَا (النساء : ٩٥) تِلْكَ الْغُنَيْمَةُ کے متعلق یہ آیتیں نازل کیں۔یعنی اللہ تعالیٰ قَالَ قَرَأَ ابْنُ عَبَّاسِ السَّلْمَ۔کے اس قول تک کہ اس ادنی زندگی کا عارضی (النساء: ٩٥) سامان لینا چاہتے ہو، یعنی وہ بکریاں (عطاء نے ) کہا: حضرت ابن عباس نے السلام ہی پڑھا ہے۔ريح : وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا: معونہ آیت کی قراءت کے بارے میں اختلاف ہوا۔آیا لفظ السلام ہے یا السَّلَمُ یا السّلم - صحیفہ قرآن مجید کے موجودہ نسخہ میں السلام ہے۔عنوان باب میں لفظ السلام کو نمایاں کر کے اسی اختلاف کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اور اس تعلق میں حضرت ابن عباس کی قراءت السّلام سے متعلق روایت ۴۵۹۱ نقل کی ہے اور عنوان باب میں بتایا ہے کہ السَّلَمُ السَّلام اور السلم مفہوم کے لحاظ سے ایک ہی ہے، لیکن معافی اور محل استعمال کے اعتبار سے ان میں فرق ہے۔السّلام سلامتی عام معنوں میں ہے اور السّلم اور السلم جنگ و قتال سے مخصوص ہے۔سلم کے معنی سپرد کر دینا اور سکھ صلح کے معنوں میں بھی ہے۔(اقرب الموارد - سلم ) بلحاظ اشتقاق ان کا مفہوم ایک ہی ہے کہ عداوت ختم اور تعلقات سلامتی و امن کے رہیں گے۔امام ابن حجر نے متعدد روایتیں نقل کی ہیں جن میں مختلف واقعات قتل کا ذکر ہے اور بتایا گیا ہے کہ ان کی نسبت آیت محولہ بالا نازل ہوئی تھی۔انہیں نقل کر کے لکھا ہے : لَا مَانِعَ أَن تَنْزِلَ الْآيَةُ فِي الْأَمْرَيْنِ مَعًا - لفظ نزول کا تعلق تطبیق سے ہے۔اس لئے کوئی روک نہیں کہ وہ مذکورہ دونوں واقعات سے متعلق ہو۔(فتح الباری جزء ۸ صفحه ۳۲۷) ا ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : " جو تم پر سلام بھیجے اس سے یہ نہ کہا کرو کہ تو مومن نہیں ہے۔“