صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 192 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 192

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۱۹۲ ۲۵ - کتاب التفسير / النساء سُورَةَ النِّسَاءِ حَتَّى بَلَغْتُ فَكَيْفَ إِذَا فرمایا: مجھے قرآن پڑھ کر سناؤ۔ میں نے کہا: میں جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ آپ کو قرآن پڑھ کر سناؤں حالانکہ آپ پر نازل عَلَى هؤُلاء شَهِيدًا (النساء : ٤٢) قَالَ کیا گیا ہے؟ آپؐ نے فرمایا: میں دوسرے سے اس کو سننا پسند کرتا ہوں۔ پھر میں نے آپ کو أَمْسِكْ فَإِذَا عَيْنَاهُ تَدْرِفَانِ۔ سورہ نساء پڑھ کر سنائی۔ جب یہاں پہنچا اور ان کا کیا حال ہو گا جب ہم ہر ایک جماعت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور تجھے ان لوگوں کے متعلق (بطور ) گواہ لائیں گے۔ آپؐ نے فرمایا: بس کرو۔ میں کیا دیکھتا ہوں، آپؐ کی آنکھوں أطرافه: ٥٠٤٩ ، ٥٠٥٠، ٥٠٥٥، ٥٠٥٦۔ سے آنسو جاری ہیں۔ إِذَا تشريح : فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَمٍ بِشَهِيدٍ: معنونہ آیت سابقہ باب کی آیت کے معا بعد ہے۔ فرماتا ہے: فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَ جِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَاءِ شَهِيدًا ۔ يَوْمَئِذٍ يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَعَصَوا الرَّسُولَ لَوْ تُسَوَّى بِهِمُ الْأَرْضُ وَلَا يَكْتُمُونَ اللَّهَ حَدِيثًا (النساء : ۴۳،۴۲) ترجمہ : اور ان کا کیا حال ہو گا جب ہم ہر ایک جماعت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور مجھے ان لوگوں کے متعلق (بطور ) گواہ لائیں گے۔ اس دن جنہوں نے کفر کیا ہے اور (اس) رسول کی نافرمانی کی ہے خواہش کریں گے کہ (کاش) ان کو زمین میں دفن کر دیا جاتا اور وہ اللہ سے کوئی بات نہ چھپا سکیں گے۔ آیت کا مفہوم واضح ہے کہ جزا سزا دینے سے قبل ہر امت پر اس کے رسول کی شہادت سے اتمام حجت کی جائے گی اور اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت ہو گی۔ جو تمام قوموں کو تبلیغ حق کرنے کی غرض سے مبعوث ہوئے ہیں، تا محاسبہ ہر پہلو سے مکمل ہو اور کسی قوم کو کہنے کی گنجائش نہ رہے کہ ان کے ساتھ مجازاۃ میں عدل و رحم کا سلوک نہیں ہوا۔ عنوان باب میں الفاظ الـ الفاظ الْمُخْتَالُ ، نَظْمِسَ وُجُوهَا ، جَهَنَّمَ ، جَهَنَّمَ سَعِيرًا سے مندرجہ ذیل آیات کی طرف اشارہ ہے: (1) مَا أَصَابَ مِنْ مُّصِيبَةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي أَنْفُسِكُمْ إِلَّا فِي كِتَبٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَبْرَاهَا إِنَّ ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرُ لِكَيْلَا تَأْسَوْا عَلَى مَا فَاتَكُمْ وَلَا تَفْرَحُوا بِمَا الكُمْ وَ اللهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ (الحدید: ۲۳، ۲۴) یعنی زمین میں کوئی مصیبت نہیں آتی اور نہ تمہاری جانوں پر کوئی مصیبت آتی ہے لیکن اس کے ظہور سے بھی پہلے ہم نے اسے مقرر کر دیا ہوتا ہے۔ یہ بات اللہ کے لئے بالکل آسان ہے تا کہ اپنی کو تاہی پر تم کو کوئی افسوس نہ ہو اور نہ اس پر تم خوش ہو جو اللہ تم کو دے۔ اور اللہ ہر شیخی خورے اکڑ باز کو پسند نہیں کرتا۔ ہر مصیبت اور تکلیف میں تقدیر و قانون کار فرما ہوتا ہے۔ الہی مؤاخذہ اندھا دھند نہیں۔ مختال اور خیال کے معنی شیخی خور ، اکثر باز۔