صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 184
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۱۸۴ ۶۵ - کتاب التفسير / النساء فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي ذَلِكَ۔ شادی کرلی اور اگر چاہا تو کسی اور سے شادی کرائی طرفة ٦٩٤٨ - اور اگر انہوں نے چاہا تو اس کو نہ بیاہا۔ غرض وہ اس عورت کے اس کے اپنے رشتہ داروں سے زیادہ حق دار ہوتے۔ اس لئے یہ آیت اس کے متعلق نازل ہوئی۔ تشريح : لَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَرِثُوا النِّسَاءَ كَرْهًا: پوری آیت یہ ہے: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَرِثُوا النِّسَاءَ كَرْهًا وَلَا تَعْضُلُوهُنَّ لِتَذْهَبُوا بِبَعْضِ مَا آتَيْتُمُوهُنَّ إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيْنَةٍ وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ فَإِنْ كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَ يَجْعَلَ اللَّهُ فِيْهِ خَيْرًا كَثِيران (النساء : ۲۰) یعنی اے ایماندارو! تمہارے لئے (یہ) جائز نہیں کہ تم زبر دستی عورتوں کے وارث بن جاؤ اور تم انہیں اس غرض سے تنگ نہ کرو کہ جو (کچھ) تم نے انہیں دیا ہے اس میں سے کچھ ( چھین کر ) لے جاؤ۔ ہاں اگر وہ کسی کھلی (کھلی) بدی کی مرتکب ہوں تو اس کا کا حکم حکم اوپر اوپر گزر گزر چکا چکا ہے۔ ہے) اور ان سے اچھا اچھا سلوک کرو اور اگر تم انہیں ناپسند کرو تو (یاد رکھو کہ یہ ) بالکل ممکن ہے کہ تم ایک چیز کو ناپسند کرو اور اللہ اس میں بہت (سا) بہتری (کا سامان) پیدا کر دے۔ ) حضرت ابن عباس سے فقرہ لا تَعْضُلُوهُنَّ کے معنی جبر اور سختی کرنا علامہ طبری اور ابن ابی حاتم نے بسند علی بن ابی سے طلحہ نقل کئے ہیں کہ خاوند بیوی پر ما پر جسے وہ ناپسند کرتا ہو سختی کرے۔ کرتا ہو سختی کرے تا وہ خلع لینے پر مجبور ہو اور اس ط ر اس طرح تحقیر و جبر اسے اپنے حق مہر سے محروم کرے۔ (فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۳۰۹) آیت کا یہ مفہوم سیاق و سباق سے بھی واضح ہے۔ حُوبا کے معنی ہیں گناہ۔ یہ لفظ سورہ نساء کی تیسری آیت میں آیا ہے، فرماتا ہے: وَأَتُوا الْيَتَنَى أَمْوَالَهُمْ وَلَا تَتَبَدَّلُوا الْخَبِيثَ بِالطَّيِّبِ وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَهُمْ إِلَى أَمْوَالِكُمْ إِنَّهُ كَانَ حُوبًا كَبِيران اور قیموں کو ان کے مال دے دو اور پاک (مال) کے بدلہ میں ناپاک (مال) نہ لو اور ان کے مال اپنے مالوں سے (ملاکر ) نہ کھاؤ۔ یہ یقینا بڑا گناہ ہے۔ مذکورہ بالا معنی بھی ابن ابی حاتم نے ہی بسند عکرمہ حضرت ابن عباس سے جو صحیح سند ہے نقل کئے ہیں اور اسی طرح ذَلِكَ أَدْنَى أَلا تَعُولُوا ( النساء:۴) کی شرح طبری نے حضرت ابن عباس سے نقل کی ہے کہ مذکورہ ہدایت مد نظر رکھنے کا نتیجہ یہ ہو گا کہ تم حق سے ادھر ادھر نہ ہوگے۔ اَلَّا تَعُولُوا یعنی اَلَّا تَمِيلُوا اور ان سے یہی معنی سعید بن منصور نے بھی صحیح سند سے بسند سعید بن جبیر روایت کئے ہیں۔ اور نخلہ کے معنی ہیں مہر، جو ابن ابی حاتم اور طبری نے حضرت ابن عباس سے نقل کئے ہیں۔ لفظ نِحْلَةً آيت وَأتُوا النِّسَاءَ صَدُ قُتِهِنَّ نِحْلَةً (النساء:۵) میں آیا ا ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : " یہ (طريق) قریب تر ہے کہ تم نا انصافی سے بچو۔“