صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 181
صحيح البخاری جلد ۱۰ IM ۶۵ - کتاب التفسير / النساء نہ ہو اور اس کے ماں باپ (ہی) اس کے وارث ہوں تو اس کی ماں کا تیسرا حصہ (مقرر) ہے، لیکن اگر اس کے بھائی ( بہن موجود) ہوں تو اس کی ماں کا چھٹا حصہ (مقرر) ہے۔ (یہ سب حصے) اس کی وصیت اور (اس کے ) قرض کی ادائیگی ) کے بعد (اداہوں گے ) تم نہیں جانتے کہ تمہارے باپ دادوں ) اور تمہارے بیٹوں میں سے کون تمہارے لئے زیادہ نفع رساں ہے، (یہ) اللہ کی طرف سے فرض مقرر کیا گیا ہے۔ اللہ یقیناً بہت جاننے والا (اور) حکمت والا ہے۔ روایت زیر باب میں فنزلت کا مفہوم یہ ہے: مذکورہ آیت مواریث کی حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے ترکہ سے متعلق نازل ہوئی اور اس کے مطابق عمل درآمد ہوا تھا۔ خود اس آیت کے الفاظ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِي بِهَا أَوْ دین میں گنجائش موجود ہے کہ سابقہ باب کی آیت کے مطابق بھی عمل ہو۔ دونوں آیتیں ایک دوسرے کی نقیض نہیں کہ ان میں سے کسی کو منسوخ سمجھا جائے۔ ان میں عموم و خصوص کا فرق ہے۔ ایک میں حکم عام ہے اور دوسری میں خاص۔ آیت مواریث سورہ نساء کی ہے جس کے نزول کی تاریخ ۵،۴ھ ہے۔ جنگ احد کے بعد صحابہ کرام کی شہادت کے بعد ترکہ کا سوال پیچیدہ ہوا۔ (النساء: ۱۷۷) シ تھے۔ مذکورہ بالا باب قائم کرنے کے کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ ا سبب یہ بھی ہے کہ حضرت جابر کلالہ کی حالت میں فوت ہوئے ۔ اس لئے اس آیت کے نزول کا ان کے واقعہ سے تعلق نہیں بلکہ آیت يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمُ فِي الْكَالَةِ ' ۱) سے تعلق ہے۔ جیسا کہ امام مسلم کی روایت روایت میں میں ج جو بسند شیبہ بن منکدر مروی ہے۔ کے اس آیت کی مزید شرح سورۂ نساء کے آخر میں دیکھی جائے۔ مختصر الفاظ میں مواریث سے متعلق اصول بیان کر دیئے گئے ہیں۔ جنہیں مد نظر رکھنے کی فقہا اور آئمہ اسلام نے مبسوط کتابیں لکھ کر حکام وقت کی راہنمائی کی ہے اور یہ اسلوب ایجاز زبان عربی ہی کا خاصہ ہے۔ بَابه : وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ (النساء : ١٣) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: ) تمہارے لئے اُس (ترکہ) کا نصف ہے جو تمہاری بیویاں چھوڑ جائیں ٤٥٧٨ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ۴۵۷۸: محمد بن یوسف نے ہمیں بتایا۔ انہوں عَنْ وَرْقَاءَ عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ نے پر قاء (بن عمر یشکری) سے ، ورقاء نے ابن عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا الى بیچ سے، انہوں نے عطاء سے، عطاء نے قَالَ كَانَ الْمَالُ لِلْوَلَدِ وَكَانَتِ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ فَنَسَخَ اللَّهُ مِنْ ذَلِكَ انہوں نے کہا: ساری جائیداد اولاد کی ہوا کرتی تھی ↓ ترجمه حضرت : "وه۔ خلیفة المسیح الرابع : " وہ تجھ سے فتوی ما نگتے ہیں۔ کہ الرابع : ” وہ تجھ سے فتوی ما نگتے ہیں۔ کہہ دے کہ اللہ تمہیں کلالہ کے بارہ میں فتوی دیتا ہے۔“ (مسلم، کتاب الفرائض، باب ميراث الكلالة)