صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 177
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۱۷۷ ۶۵ - کتاب التفسير / النساء (النساء : ١٩) أَعْدَدْنَا أَفْعَلْنَا مِنَ الْعَتَادِ ۔ کے معنوں میں ہے ، یعنی جلدی جلدی۔ أَعْتَدْنَا کے معنی أَعْدَدْنَا - أَفْعَلْنَا کے وزن پر یہ الْعَتَادِ سے ہے، اس کے معنی ہیں ہم نے تیار کر رکھا ہے۔ ٤٥٧٥ : حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا ۴۵۷۵: اسحاق بن راہویہ) نے مجھے بتایا کہ عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عبد اللہ بن نمیر نے ہمیں خبر دی کہ ہشام (بن عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فِي قَوْلِهِ عروہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، تَعَالَى وَ مَنْ كَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ ان کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے وَ مَنْ كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ اللہ تعالی کے اس قول سے متعلق روایت کی۔ یعنی جو غنی ہو وہ پر ہیز کرے اور جو فقیر ہو وہ دستور (النساء: ٧) أَنَّهَا نَزَلَتْ فِي مَالِ الْيَتِيمِ إِذَا كَانَ فَقِيرًا أَنَّهُ يَأْكُلُ مِنْهُ مَكَانَ قِيَامِهِ عَلَيْهِ بِمَعْرُوفٍ۔ أطرافه: ٢٢١٢، ٢٧٦٥ کے مطابق کھائے۔ یہ آیت یتیم کی جائیداد کی بابت نازل ہوئی۔ جب سر پرست محتاج ہو تو وہ دستور کے مطابق اپنی خوراک اس سے لے۔ کیونکہ اس نے اس مال کی نگرانی کی ہے۔ تشریح ۔ وَ مَنْ كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: لیکن ۔ جو نادار ہو وہ مناسب طور پر ( اس مال میں سے کھائے۔ پھر جب تم انہیں ان کے مال واپس دو تو ان (یتامی) کے روبرو گواہ مقرر کر لو اور اللہ حساب لینے کے لحاظ سے (اکیلا) کافی ہے۔ یہ سورہ نساء کی آیت نمبرے کا حصہ ہے جس کا تعلق یتامی کی تربیت اور ان کے اموال کی حفاظت سے ہے۔ اگر متولی یتیم غنی ہو تو اس کے لئے زیبا نہیں کہ وہ حق تولیت کے عوض میں یتیم کے اموال سے کچھ لے۔ اور جو محتاج ہو وہ دستور کے مطابق مال سے اپنی خوراک وغیرہ کے لئے صرف کر سکتا ہے، اور اس میں اسراف کی صورت نہ ہو اور نہ یہ طریق اختیار کیا جائے کہ یتیم کا رأس المال بلوغت سے قبل ہی ختم کر دیا جائے۔ آیت کا یہ مفہوم واضح ہے اور الاشراف کے معنی الافراط ابو عبیدہ سے مروی ہیں۔ (فتح الباری جزء ۸ صفحه ۳۰۴) اور ہدارا کے معنی استراعًا یعنی جلدی سے ہیں۔