صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 176 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 176

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۱۷۶ ۶۵ - کتاب التفسير / النساء تشريح : وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتلی: زیر باب وہی آیت ہے جس کا ترجمہ مع تشریح گذشتہ باب کی تشریح میں گزر چکا ہے۔ اس کے تحت دو روایتیں جو نقل کی گئی ہیں۔ وہ مذکورہ بالا شرح آیت کی تائید کرتی ہیں۔ دوسری روایت میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کردہ مفہوم کی تائید ایک اور آیت سے کی ہے جو یہ ہے: وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ قُلِ اللهُ ۔ اءِ قُلِ اللهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ وَمَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَبِ فِي يَتْمَى النِّسَاءِ الَّتِي لَا تُؤْتُونَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَ تَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْوِلْدَانِ وَ أَنْ تَقُومُوا لِلْيَتَى بِالْقِسْطِ وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّ اللهَ كَانَ بِهِ عَلِيمًا ( النساء:۱۲۸) ترجمہ: اور لوگ تجھ سے (ایک سے زیادہ) عورتوں سے نکاح) کے متعلق (احکام) دریافت کرتے ہیں۔ تو (ان سے) کہہ کہ اللہ تمہیں ان کے متعلق اجازت دے چکا ہے اور جو (حکم اس کتاب میں (دوسری جگہ) تمہیں پڑھ کر سنایا گیا ہے وہ ان یتیم عورتوں کے متعلق ہے۔ جنہیں تم ان کے مقرر کردہ حق ادا نہیں کرتے۔ مگر ان سے نکاح کرنا چاہتے ہو اور (نیز) کمزور بچیوں کے متعلق ہے اور ( تمہیں یہ حکم دیا گیا تھا کہ یتیموں کے ساتھ انصاف کا معاملہ کرتے رہو اور جو نیک کام بھی تم کرو (یاد رکھو کہ) اللہ اسے یقیناً خوب جانتا ہے۔ اس آیت میں بھی صراحت ہے کہ تم یتیم لڑکیوں کو ان کے حقوق سے محروم رکھتے ہو اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا آیت وَ تَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ (النساء : ۱۲۸) سے استدلال لطیف ہے کہ اگر یتیم لڑکی مال دار ہو تو تم اس سے نکاح کی خوا ، نکاح کی خواہش رکھتے ہو۔ نہ ہو۔ اس سے ضمناً پایا جاتا ہے کہ ا ہا جاتا ہے کہ اگر وہ مال دار نہ ہو تو کوئی بھی اس سے نکاح کی خواہش نہیں کرے گا۔ یہی مفہوم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے اس فقرے کا ہے: رَغْبَةً أَحَدِكُمْ عَنْ يَتِيمَتِهِ حِينَ تَكُونُ قَلِيلَةَ الْمَالِ۔ یعنی تم میں سے کوئی یتیم لڑکی سے اس لئے بے رغبت نہ ہو کہ وہ تھوڑی جائیداد اور تھوڑی خوبصورتی رکھتی ہے۔ رَغِبَ عَنْهَا کے معنی ہیں بے رغبت ہوا، اور رغب اليها : اس کی طرف راغب ہوا۔ فَعُهُوا : اس بے انصافی کی وجہ سے وہ روک دیئے گئے کہ مال دار یتیم لڑکیوں سے مال کی وجہ سے نکاح نہ کریں۔ اسلام عدل و انصاف چاہتا ہے۔ باب ۲ وَمَنْ كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ فَإِذَا دَفَعْتُمْ إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ فَأَشْهِدُوا عَلَيْهِمُ (النساء: ٧) الْآيَةَ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: ) اور جو فقیر ہو چاہیے کہ وہ دستور کے مطابق کھائے اور جب تم ان کو ان کے مال سپرد کر دو تو تم ان کے سامنے گواہ ٹھہرا لو وَ بِدَارًا (النساء : ٧) مُبَادَرَةً، اَعْتَدْنَا (اس آیت میں جو ) ہدارا ( کا لفظ ہے وہ ) مُبَادَرَةً