صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 140
صحيح البخاری جلد ۱۰ الله ۶۵ - کتاب التفسير / آل عمران حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ يحي بن يحيی نے مجھ سے بیان کیا، کہا: میں نے مالک عَلَى مَالِكِ مَالٌ رَايِحٌ۔ سے یوں پڑھا ہے : مال رایچ یعنی بہت عمدہ مال۔ اطرافه ١٤٦١ ، ۲۳۱۸ ، ۲۷۵۲، ۲۷۵۸، ۲۷۶۹، ٤٥٥٥، ٥٦١١۔ ٤٥٥٥ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ ۴۵۵۵ : محمد بن عبد اللہ انصاری نے ہم سے بیان اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ کیا، کہا: میرے باپ نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ثُمَامَةَ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ ثمامہ سے، تمامہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ فَجَعَلَهَا لِحَسَّانَ وَأُبَيَّ وَأَنَا أَقْرَبُ سے روایت کی۔ حضرت انس نے کہا کہ حضرت إِلَيْهِ وَلَمْ يَجْعَلْ لِّي مِنْهَا شَيْئًا۔ ابو طلحہ نے وہ باغ حضرت حسان اور حضرت ابی کو دے دیا۔ حالانکہ میں ان کا بہت قریبی رشتہ دار ہوں مگر میرا اُس میں کوئی حصہ نہ رکھا۔ أطرافه ۱٤٦١ ، ۲۳۱۸، ۲۷۵۲، ۲۷۵۸، ٢۷۶۹، ٤٥٥٤، ٥٦١١۔ تشريح : لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ : حِبّون: مذکورہ بالا آیت سورة سورہ آل عمران کی ن کی آیت نمبر ۹۳ ہے۔ جس کا مفہوم ظاہر ہے کہ کامل نیکی محبوب ترین اشیاء کی قربانی سے حاصل ہوتی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نزدیک مَا تُحِبُّونَ اپنے مفہوم میں بہت وسیع ہے۔ صرف مالی قربانی تک محدود نہیں جو امیر آدمی کے لئے آسان امر ہے۔ صحابہ کرام کی قربانی سے متعلق آپ عربی قصیدہ میں فرماتے ہیں: قَدْ وَدَعُوا أَهْوَاءَهُمْ وَنُفُوْسَهُمْ وَ تَبَرَّءُوا مِنْ كُلِّ نَشْبٍ فَانِ ظَهَرَتْ عَلَيْهِمُ بَيِّنَاتُ رَسُولِهِمُ فَتَمَزَّقَ الْأَهْوَاءُ كَالْأَوْثَانِ آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن ، جلد ۵ صفحه ۵۹۱) اپنی خواہشوں اور نفسوں کو چھوڑ دیا اور سب طرح کے فانی مالوں سے بیزار ہو گئے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کھلی دلیلیں ان پر ظاہر ہوئیں اس لئے ان کی نفسانی خواہشیں بتوں کی طرح ٹکڑے ٹکڑے ہو گئیں۔ یہ دو شعر ایک لمبے قصیدے میں سے ہیں۔ جس میں صحابہ کرام کی قربانیوں کی تصویر ایسی کھینچی گئی ہے جو لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا کی عملی تفسیر ہے۔ صحابہ کرام کی قربانیوں میں امیر و غریب کا امتیاز مٹ گیا۔ زیر باب روایت آیت کا مفہوم بیان کرنے کے لئے بطور مثال درج کی گئی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد سے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے اپنے محتاج اقرباء اور چا کے بیٹوں میں اپنا کھجور کا باغ تقسیم کر دیا، جو محتاج تھے۔ زیر باب دوسری روایت يحي بن يحي یہاں مختصر ہے اور کتاب الوکالۃ زیر باب ۱۵ مفصل ہے اور اس