صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 124 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 124

صحیح البخاری جلد ۱۰ فَاحْذَرُوهُمْ۔ ۱۳۱۴ ۶۵ - کتاب التفسير / آل عمران کرتا۔ فرماتی تھیں: یہ پڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (عائشہ !) جب تم ان لوگوں کو دیکھو جو قرآن کی ایسی آیات کے پیچھے لگتے ہیں جو متشابہ ہوں تو وہ وہی لوگ ہیں جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے ( اس آیت میں ) کیا ہے۔ یعنی ان سے بچو۔ تشريح : مِنْهُ أَيْتُ مُحْكَمْتُ هُنَّ أُمُّ الْكِتٰبِ وَأُخَرُ مُتَشْبِهُتُ : جس کی بعض آیات محکم ہیں۔ جو اس کتاب کی جڑ ہیں اور کچھ اور ہیں جو متشابہ ہیں۔ مجاہد نے ام الکتب سے مراد حلال و حرام سے متعلقہ واضح احکام لئے ہیں جو شریعت کی اصل بنیاد ہیں اور متشابہ یعنی متماثل، ایک دوسرے کے ہم معنی امور مراد لئے ہیں ، ( يُصَدِّقُ بَعْضُهَا بَعْضًا ) جو ایک دوسرے کی تصدیق کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک متشابہ کے معنی شبہ والی باتیں نہیں۔ کیونکہ قرآن مجید کا سب سے پہلا وصف لَا رَيْبَ فِيهِ بیان ہوا ہے۔ اس میں شبہ والی کوئی بات نہیں۔ محکمات اور متشابہات سے متعلق ان کی مذکورہ بالا تفسیر عبد بن حمید نے عبداللہ بن ابی نجیح کی سند سے نقل کی ہے۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۲۶۴) اور متشابہ سے متعلق جو تین مثالیں دی ہیں وہ ان کی تفسیر کو واضح کرتی ہیں۔ دما يُضِلُّ بِه به إِلَّا الْفَسِقِينَ ( البقرة : (٢٧) (۲) اس سے قبل فرماتا ہے : يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَ يَهْدِي بِهِ كَثِيرًا (البقرة : ۲۷) حق بات واضح کرنے کی مثال خواہ چھوٹی بیان کی جائے یا بڑی، مومن حق قبول کرتے ہیں اور کافر اعتراض کر کے اسے رڈ کر دیتے ہیں۔ اس حق کے ذریعہ سے اللہ بہتوں کو گمراہ کر دیتا ہے اور بہتوں کو ہدایت دیتا ہے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ رب العالمین سے حق نازل ہو اور وہ (الهدی ) کامل راہنمائی کا دعویٰ کرے پھر اس کے ذریعے سے بہت سے بجائے ہدایت پانے کے گمراہ ہوں، یہ دونوں باتیں بظاہر متضاد ہیں۔ اس کی وضاحت آیت وَمَا يُضِلُّ بہ اِلَّا الْفَسِقِينَ سے کی گئی ہے کہ حق کے ذریعہ سے صرف انہی کو گمراہ کرتا ہے جو احکام الہی کے نافرمان، بد عہد ، تعلقات توڑنے والے اور دنیا میں بگاڑ پیدا کرنے والے ہوں۔ متشابہات کے ضمن میں مزید تشریح کے لئے کتاب البیوع ، باب ۲ تا ۵ دیکھئے۔ مجاہد نے متشابہ کا مفہوم بیان کرنے کے لئے یہ ایک مثال دی ہے جو بہت واضح ہے۔ دوسری مثال یہ دی ہے: وَ يَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِينَ لَا۔ لَا يَعْقِلُونَ (يون (یونس : کے ۱۰۱) یہی مضمون سورۃ الانعام میں بھی بیان ہوا ہے۔ اللہ تعا تعالیٰ ترجمه حضرت خليفة المسيح الرابع : اور وہ اس کے ذریعہ فاسقور اسقوں کے سوا کسی کو گمراہ کو گمراہ نہیں ٹھہراتا۔“ ترجمه حضرت خليفة المسيح الرابع : ” وہ اس (مثال) کے ذریعہ سے بہتوں کو گمراہ ٹھہر آتا ہے اور بہتوں உ کو اس کے ذریعہ سے ہدایت دیتا ہے۔“ دو ترجمه حضرت خليفة المسيح الرابع ؟ اور وہ ان کے چہروں) پر جو عقل سے کام نہیں لیتے ( ان کے دل کی ) پلیدی تھوپ دیتا ہے۔“