صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 112
صحيح البخاری جلد ۱۰ ۱۱۲ ۶۵ - کتاب التفسير / البقرة جنہوں نے یہ کہا کہ اللہ تعالیٰ تو محتاج ہے ( جو مومن بندوں کو مال نہیں دیتا) اور ہم دولت مند ہیں۔ اُن کی یہ بات ہم ضرور لکھیں گے اور یہ بھی لکھیں گے کہ وہ ناحق انبیاء کے مارنے کے درپے رہے۔ ہم انہیں کہیں گے جلن کا عذاب چکھو۔ جملہ لَقَدْ سَمِعَ اللهُ اور سَنَکتب کے الفاظ شدید انذار اور قہاری تجلی پر دلالت کرتے ہیں۔ یعنی ہم اُن کی بات کا جواب اور انبیاء کا مقابلہ تاریخی داستان بناد بھی داستان بنا دیں گے۔ مید و فارس میں سودی کاروبار سے اُن کی اُن کی دولت مندی آخر سبب ہوئی اُن کے قرضداروں کی بغاوت یلغار کا جو انہوں نے یہودیوں پر کی۔ یہ واقعات بابل اور مید و فارس کی تاریخ قدیم سے تعلق رکھتے ہیں۔ ہمارے زمانے میں جرمنی اور پولینڈ وغیرہ میں یہودیوں پر جو گزری وہ نہایت ہی ہولناک اور درد انگیز داستان عذاب الحریق ہے۔ اسی طرح عیسائی دنیا میں موجودہ زمانے کی جنگیں۔ یہ حال تو ان قوموں کا ہے جو سود میں شہرہ آفاق ہیں۔ مگر سود خور افراد کی حالت انفرادی صورت میں بھی اس سے کم خطرناک نہیں۔ بعض شارحین صحیح بخاری نے مذکورہ بالا خواب کی تطبیق قیامت پر کی ہے ۔ ( فتح الباری شرح کتاب البیوع، باب ۲۴ جزء ۴ صفحه ۳۹۶) اگر غور سے دیکھا جائے تو اس دنیا میں بھی سود خور کا انجام عبرت ناک ہے۔ اس مضمون کی مزید وضاحت کے لیے دیکھئے اسلام کا اقتصادی نظام ، مصنفہ حضرت خلیفة المسیح الثانی رضی اللہ عنہ انوار العلوم جلد ۱۸۔ بَاب ٥٢ : وَإِنْ كَانَ ذُو عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ إِلى مَيْسَرَةٍ وَ أَنْ تَصَدَّقُوا خَيْرٌ لَكُمْ إن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ ( البقرة : ۲۸۱) اللہ تعالیٰ کا فرمانا: ) اگر کوئی تنگ ہو تو اسے کشائش تک مہلت دینی ہوگی اور یہ کہ تم صدقہ کرو تو تمہارے لئے بہتر ہو گا اگر تم جانو ٤٥٤٣ : وَ قَالَ لَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ۴۵۴۳ اور محمد بن یوسف (فریابی) نے ہم سے يُوسُفَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مَنْصُورٍ کہا: سفیان سے مروی ہے۔ انہوں نے منصور اور وَالْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي الضُّحَى عَنْ اعمش سے، ان دونوں نے ابوالضحیٰ سے، انہوں مَّسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا أُنْزِلَتِ نے مسروق سے، مسروق نے حضرت عائشہ سے الْآيَاتُ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ قَامَ روایت کی کہ وہ فرماتی تھیں: جب سورۃ البقرۃ کی رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آخری آیتیں نازل ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ فَقَرَأَهُنَّ عَلَيْنَا ثُمَّ حَرَّمَ التِّجَارَةَ فِي وسلم اٹھے اور ہمارے سامنے وہ پڑھیں۔ پھر آپ الْخَمْرِ۔ نے شراب کی تجارت بھی حرام کی۔ اطرافه : ٤٥٩، ٢٠٨٤، ٢٢٢٦ ، ٤٥٤٠، ٤٥٤١، ٤٥٤٢۔