صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 111 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 111

صحيح البخاری جلد ۱۰ ۶۵ - کتاب التفسير / البقرة النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سورة البقرة کی آخری آیات نازل ہوئیں تو نبی الْمَسْجِدِ وَحَرَّمَ التِّجَارَةَ فِي الْخَمْرِ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان آیات کو مسجد میں پڑھ کر سنایا اور آپ نے شراب کی خرید و فروخت بھی حرام کر دی۔اطرافه ٤٥٩، ۲۰۸٤، ۲۲۲۶، ٤٤۰، ٤٥٤١ ٤٥٤٣۔تشریح : فَأَذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ : فَأَذَنُوا کے معنی فَاعْلَمُوا: جان لو کہ سودی کار و بار اللہ اور رسول کے حکم کی ایسی خلاف ورزی ہے کہ جو جنگ کے مترادف ہے۔جن آیات کا مذکورہ روایت میں حوالہ دیا گیا ہے ان میں تجارت کی حلت اور سود کی حرمت کا ذکر ہے۔سود خور سے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک مندر خواب کا ذکر روایت نمبر ۲۰۸۵ میں گزر چکا ہے جس میں ایک شخص کو خون کی نہر میں دکھایا گیا کہ وہ جب اس سے باہر نکلنے کی کوشش کرتا ہے تو کنارے پر بیٹھا ہوا شخص اس کو پتھر مارتا ہے جس سے پھر وہ واپس خون کی نہر میں چلا جاتا ہے۔اس خواب کے نظارے میں سود خور کی حالت بیان کی گئی ہے۔خواہیں تعبیر طلب ہوتی ہیں۔خون اور پانی قیام زندگی کا باعث ہیں۔چنانچہ اگر کوئی خواب میں دریا دیکھے اور اس سے پانی پئے تو امام محمد بن سیرین نے اس کی تعبیر مال و دولت کی ہے۔سود خور بنی نوع انسان کا خون چوستا ہے اور اپنی دولت بڑھاتا ہے، جس کی پاداش کا نظارہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دکھایا گیا کہ وہ اس سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کرے گا مگر نجات نہیں پاسکے گا۔آپ کو رویا میں پتھر مارنے کا نظارہ دکھایا گیا ہے۔پتھر قساوت قلبی، شدت اور تلخ زندگی پر دلالت کرتے ہیں۔سود خور کی جو حالت قرآنِ مجید میں بیان ہوئی ہے وہ ایک مخبوط الحواس انسان کی سی ہے جو مال و دولت کے لالچ سے مجنون اور حواس باختہ ہے۔چنانچہ اس خواب کی تعبیر جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائی ہے وہ بھی ایسی ہی زندگی کے مناسب حال ہے۔محولہ بالا آیت میں سود خور لوگوں کا انجام بد بطور پیشگوئی بتایا گیا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ سے ایک لڑائی مول لینے والے ہوں گے۔فَأَذَنُوا بِحَرْبِ من الله ، آج کل کے واقعات اس کی تصدیق کر رہے ہیں۔عیسائی حکومتوں کی جنگیں سود کے بل بوتے پر ہی لڑی جاتی ہیں۔سود کا لالچ نہ ہو تو جنگی اخراجات کے لئے بے شمار روپیہ مہیا ہونا ممکن نہیں۔خواب نبوی کی تعبیر یہ خونی جنگیں بھی ہو سکتی ہیں۔یہود بحیثیت قوم سود خوری میں شہرہ آفاق ہیں۔تاریخ قدیم میں بھی اور تاریخ جدید میں بھی۔انہیں ملک بہ ملک جو در بدر ہونا پڑا اور اُن کے خون سے ہر جگہ جو ہولی کھیلی گئی اس کے پس پر وہ اسباب میں سے ایک بڑا سبب سود بھی تھا جو اَضْعَافًا مُضْعَفَةً کی صورت میں دیا جاتا تھا اور یہ ایک طرف اُن کی دولت مندی کا سبب ہوتا اور دوسری طرف اُن کے استیصال کا۔اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں یہودیوں کا ایک قول نقل کیا ہے، فرماتا ہے: لَقَد سَمِعَ اللهُ قَوْلَ الَّذِيْنَ قَالُوا إِنَّ اللهَ فَقِيرٌ وَنَحْنُ أَغْنِيَاءُ سَنَكْتُبُ مَا قَالُوا وَ قَتْلَهُمُ الْأَنْبِيَاءَ بِغَيْرِ حَقِّ وَ تَقُولُ ذُوقُوا عَذَابَ الْحَرِيقِ ) (آل عمران: ۱۸۲) اللہ تعالیٰ نے اُن لوگوں کی بات سن لی ہے