صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 108
صحیح البخاری جلد ۱۰ وجہ ہے ۷۰۱ ۶۵ - كتاب التفسير / البقرة آپ کے اس عمل میں ہمارے لیے یہ نیک سبق ہے کہ ہم بھی محتاجوں کو مانگنے کے گناہ سے محفوظ رکھیں۔ جیسا کہ اُن کا بھی فرض ہے کہ وہ خود بچیں۔ ارشادِ باری تعالٰی تعرفهم کا یہی مقصد ہے کہ خلیفہ وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جانشین ہونے کی حیثیت سے اور اسلامی حکومت زکوۃ کی تقسیم میں اور افرادِ اُمت اتباع سنت کے واجب ہونے کی وجہ سے انفرادی صدقات کی تقسیم میں اس بات کا انتظار نہ کیا کریں کہ محتاج آکر خود مانگیں بلکہ انہیں خود ایسے محتاجوں کا علم رکھنا چاہیے۔ ارشادِ باری تعالیٰ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ کو نظر انداز کرنے کا نتیجہ یہ ہو گا کہ عفت و عزت نفس کی اعلیٰ روح جو اسلام افراد میں پیدا کرنا چاہتا ہے، پیدا نہیں ہو گی بلکہ مٹ جائے گی اور بھیک مانگنے کا سلسلہ وسیع ہوتا چلا جائے گا۔ آج جو مسلمانوں کی ناگفتہ بہ حالت ہے اس کی یہی آوری میں حد درجہ غفلت و سہل انگاری ہے۔ اسلام قطعی طور پر مانگنے کے اس طریق ہے کہ احکام اسلام کی بجا آوری میں ۔ کو روکتا ہے جو آج کل رائج ہے۔ بلکہ یہ چاہتا ہے کہ محتاج اپنی محتاجی کو پبلک پر ظاہر نہ ہونے دیں اور فقراء یعنی محتاجوں کی تعریف یہ کرتا ہے کہ الَّذِينَ أَحْصِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ جو خدمت دین کے لیے وقف ہوں اور اس وجہ سے کوئی دوسرا کاروبار کر کے صورت معاش پیدا نہ کر سکتے ہوں یا وہ لوگ جو خدمت دین کرنا چاہتے ہیں مگر تنگ دست ہیں، یا وہ جو جنگ وغیرہ میں بیکار ہو چکے ہیں۔ فی سَبِیلِ الله کا جملہ اپنے معانی و مقاصد کے اعتبار سے بہت وسعت رکھتا ہے اور رفاہ عامہ کے تمام امور پر حاوی ہے، خواہ وہ دینی ہوں یا دنیاوی۔ اسلام رضائے الہی کی خاطر بیوی کے منہ میں لقمہ ڈالنے کو بھی فی سَبِیلِ اللہ قرار دیتا ہے۔ (روایت نمبر ۵۶) اس لیے اس کے مفہوم کو دو تین شقوں میں محصور کرنا قرآن مجید اور احادیث نبویہ کی اصطلاح کے خلاف ہو گا۔ آیت الَّذِينَ أَحْصِرُوا فِي سَبِيلِ اللہ میں اس امر کی بھی صراحت ہے کہ قومی و ملکی ضرورتیں مقدم کی جائیں۔ وہ زکوۃ کے اموال میں سے پہلے پوری کی جائیں۔ چنانچہ جب اسلام خطرہ میں تھا تو جہاد کے لئے امیر و غریب دونوں کو اس میں شریک ہونا پڑا تھا اور دونوں کو اس کے لئے تیاری کا حکم ہوا۔ اس لئے غنی و فقیر اور مسکین کی تعریف حالات کے ساتھ بدل جائے گی۔ بَاب ٤٩ : وَأَحَلَّ اللهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرَّبوا (البقرة : ٢٧٦) اللہ تعالیٰ کا فرمانا: اللہ نے خرید و فروخت تو حلال کی اور سود حرام کیا ہے الْمَس (البقرة: ٢٧٦) الْجُنُون۔ مس کے معنی ہیں جنون اور دیوانگی۔ ٤٥٤٠ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ ۴۵۴۰: عمر بن حفص بن غیاث نے ہم سے غِيَاثٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَسُ بیان کیا کہ میرے باپ نے ہمیں بتایا کہ اعمش حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ عَنْ مَّسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ نے ہم سے بیان کیا کہ مسلم نے ہمیں بتایا۔ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لَمَّا نَزَلَتِ الْآيَاتُ انہوں نے مسروق سے، مسروق نے حضرت عائشہ