صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 109
صحیح البخاری جلد ۱۰ 1+9 ۶۵ - کتاب التفسير / البقرة مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فِي الرِّبَا قَرَأَهَا رَضى الله عنہا سے روایت کی۔فرماتی تھیں: جب رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ربا سے متعلق سورۃ البقرۃ کی آخری آیتیں نازل النَّاسِ ثُمَّ حَرَّمَ التِّجَارَةَ فِي الْخَمْرِ ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے سامنے وہ پڑھیں۔پھر آپ نے شراب کی خرید و فروخت بھی حرام کر دی۔۔اطرافه ٤٥٩، ۲۰٨٤ ، ۲۲۲۶، ٤٥٤۱ ٤٥٤٢ ٤٥٤٣۔تشریح۔وَاحَلَ اللهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبوا : پوری آیت یہ ہے: الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرَّبُوا لَا يَقُومُونَ الا كَمَا يَقُومُ الَّذِى يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَنُ مِنَ الْمَسْ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرَّبُوا وَاحَكَ اللهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرَّبُوا فَمَنْ جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِنْ زَيْهِ فَانْتَهى فَلَهُ مَا سَلَفَ وَ امْرَةٌ إِلَى اللَّهِ وَمَنْ عَادَ فاوتيكَ اَصْحَبُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خُلِدُونَ (البقرة: ۲۷۶) ترجمہ : جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ (بالکل) اسی طرح کھڑے ہوتے ہیں جس طرح وہ شخص کھڑا ہوتا ہے جس پر شیطان (یعنی مرض جنون ) کا سخت حملہ ہو۔یہ (حالت) اس وجہ سے ہے کہ وہ کہتے رہتے ) ہیں کہ (خرید و فروخت ( بھی تو) بالکل سود (ہی) کی طرح ہے۔حالانکہ اللہ نے (خریدو) فروخت کو جائز قرار دیا ہے اور سود کو حرام کیا ہے۔سو یادرکھو کہ) جس (شخص) کے پاس اس کے رب کی طرف سے کوئی نصیحت (کی بات ) آئے اور وہ (اسے سن کر خلاف ورزی سے ) باز آجائے تو جو (لین دین) وہ پہلے کر چکا ہے اس کا نفع اسی کا ہے۔اور اس کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے۔اور جو (لوگ) پھر ( وہی کام کریں تو وہ (ضرور) آگ ( میں پڑنے) والے ہیں۔وہ اس میں پڑے رہیں گے۔عربی میں مجنون کو کمنٹسوس بھی کہتے ہیں۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۲۵۶) اس آیت میں مِنَ الْمَش سے مراد یہ ہے کہ بوجہ جنون بد حواس ہو جاتا ہے۔سود خور قوم کا یہ اعتراض ہے کہ جس طرح بیچ میں نفع مقصود ہے، رہا سے بھی یہی مقصود ہے۔قرأَهَا- یعنی ساری آیات متعلقہ سود پڑھیں۔جن آیات کا مذکورہ روایت میں حوالہ دیا گیا ہے ان میں تجارت کی حلت اور سود کی حرمت کا ذکر ہے۔ان آیات کے نازل ہونے سے پہلے شراب کی حرمت کے متعلق حکم نازل ہو چکا تھا مگر اس کی تجارت کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی اعلان نہیں فرمایا تھا۔ان آیات میں تجارت بظاہر بغیر قید و شرط کے جائز قرار دی گئی ہے۔مگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وجہ سے کہ شراب حرام ہے اس کی تجارت بھی حرام کر دی۔