صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 106
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۱۰۶ ۶۵ - کتاب التفسير / البقرة وَأَحْفَانِي بِالْمَسْأَلَةِ۔ فَيُحْفِكُمُ اور اس نے سوال سے مجھے تنگ کر دیا ہے۔ (اور (محمد: ۳۸) يُجْهِدُكُمْ۔ یہ جو قرآن میں آتا ہے اِنْ يَسْلُكُمُوهَا فَيُحْفِكُمْ اس میں ) فَيُحْفِكُمْ کے معنی ہیں : يُجْهِدُكُمْ - وہ تمہیں دق کرے۔ ٤٥٣٩ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ۴۵۳۹: (سعید) ابن ابی مریم نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنِي کیا کہ محمد بن جعفر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے شَرِيْكُ بْنُ أَبِي نَمِرٍ أَنَّ عَطَاءَ بْنَ :کہا: شریک بن ابی نمر نے مجھ سے بیان کیا کہ يَسَارٍ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي عَمْرَةَ عطاء بن یسار اور عبد الرحمن بن ابی عمرہ انصاری الْأَنْصَارِيَّ قَالَا سَمِعْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ دونوں نے کہا کہ ہم نے حضرت ابو ہریرہ رضی رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللہ عنہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ الْمِسْكِينُ نے فرمایا: مسکین وہ نہیں جس کو ایک کھجور یاد الَّذِي تَرُدُّهُ التَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ وَلَا کھجور میں لوٹا دیں اور نہ وہ جس کو ایک لقمہ یا دو لقمے لوٹا دیں۔ بلکہ مسکین تو وہ شخص ہے جو سوال اللُّقْمَةُ وَلَا اللَّقْمَتَانِ إِنَّمَا الْمِسْكِينُ الَّذِي يَتَعَفَّفُ، اِقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ رو کرنے سے بچتا رہے اور اگر تم چاہو (قرآن میں پڑھو۔ یعنی اللہ تعالیٰ کا یہ قول: وہ لوگوں يَعْنِي قَوْلَهُ تَعَالَى لَا يَسْتَلُونَ النَّاسَ سے پیچھے پڑ کر نہیں مانگتے۔ الْحَافًا۔ (البقرة: ٢٧٤) اطرافه ١٤٧٦، ١٤٧٩- تشريح : لَا يَسْتَلُونَ النَّاسَ الْحَافًا: الْحَفَ عَلى: الح علی ۔ اس نے با اصرار مجھ سے مطالبہ کیا۔ وَأَحْفَانِي بِالْمَسْأَلَةِ : اور اس نے سوال سے مجھے تنگ کر دیا ہے۔ الحف لحاف سے ہے۔ جس طرح لحاف جسم کے ساتھ لپٹ جاتا ہے اسی طرح سائل لپٹ گیا۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحه ۲۵۵) اگر سوال مطلق منع ہو تو حاجت مند کی حاجت کا علم دوسروں کو نہیں ہو سکتا۔ اسلام بھیک مانگنے کو قطعی طور پر بند کرتا ہے اور حکومتوں نے بھی قانونا اسے ممنوع قرار دے دیا ہے۔ لیکن نفاذ کمزور ہے۔ عہد نبوی نے نہ صرف اس کا نفاذ تزکیہ نفس کے ذریعہ سے کیا، بلکہ اقتصادی حالات کو اتنا بہتر بنا دیا کہ صدقہ قبول کرنے والے ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتے تھے۔ بھیک مانگنے والا کون ہے ؟ الَّذِي تَرُدُّهُ الْأَكْلَةُ وَالْأَكْلَتَانِ ( روایت نم الْأَكْلَةُ وَالْأَكْلَتَانِ ( روایت نمبر ۱۴۷۶) یعنی جو لقمہ لقمہ کے لئے در بدر مارا مارا پھرتا ہے ؟ کیستَلُونَ النَّاسَ الْحَافا کا بھی یہی مفہوم ہے کہ وہ لوگوں سے لپٹے رہتے ہیں۔ یعنی