صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 94 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 94

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۹۴ ۶۵ - کتاب التفسير / البقرة عَنْهُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انہوں نے عبیدہ (بن عمرو) سے، عبیدہ نے ح حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ وَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا يَحْيَى اور عبد الرحمن (بن بشر بن حکم) نے مجھ سے بْنُ سَعِيدٍ قَالَ هِشَامٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ بیان کیا کہ یحی بن سعید (قطان) نے ہمیں عَنْ عَبِيدَةَ عَنْ عَلِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بتايا کہ ہشام نے کہا: محمد بن سیرین) نے ہمیں ہے ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بتایا۔ انہوں نے عبیدہ (بن عمر و سلمانی) عبیدہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی يَوْمَ الْخَنْدَقِ حَبَسُونَا عَنْ صَلَاةِ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خندق کے ایام الْوُسْطَى حَتَّى غَابَتِ الشَّمْسُ مَلَا میں فرمایا: انہوں نے ہمیں درمیانی نماز سے اللهُ قُبُورَهُمْ وَبُيُوتَهُمْ أَوْ أَجْوَافَهُمْ روکے رکھا یہاں تک کہ سورج بھی ڈوب گیا۔ نَارًا، شَكٍّ يَحْيَى۔ أطرافه ٢٩٣١، ٤١١١، ٦٣٩٦ - اللہ ان کی قبروں اور ان کے گھروں کو یا ان کے پیٹوں کو آگ سے بھرے۔ یچی (راوی) نے بُيُوتَهُمْ يَا أَجْوَافَهُمْ کے متعلق) شک کیا (کہ یہ لفظ فرمایا یا وہ۔) تشریح : حَفِظُوا عَلَى الصَّلَواتِ وَالصَّلوةِ الْوُسطی : اس آیت کی تشریح کے تعلق میں میں دو سندوں سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی روایت نقل کی گئی ہے جو کتاب المغازی ( باب ۲۹ روایت نمبر ۴۱۱۱) الصَّلَاةِ میں بھی مذکور ہے ۔ امام مسلم نے بھی یہی روایت بسند شعیر بن شکل نقل کی ہے جس کے یہ الفاظ ہیں: شَغَلُونَا عَنِ الفـ الْوُسْطَى صَلَاةِ الْعَصْرِ ۔ انہوں نے ہمیں مشغول رکھا کہ ہم صلوٰۃ وسطی یعنی نماز عصر نہیں پڑھ سکے اور آخر میں آخر میں یہ الفاظ زائد ہیں : ثُمَّ صَلَّاهَا بَيْنَ الْعِشَاءَ بْنِ ، بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ پھر آپ نے مغرب اور عشاء کے (وقت کے) درمیان یہ نماز پڑھی۔ امام مسلم نے حضرت ابن مسعودؓ سے بھی حضرت علی کی طرح روایت بیان کی ہے۔ اے حضرت ابوہریرہ سے بھی روایت ہے جس میں ذکر ہے کہ رسول اللہ صلی علیم نے دریا لہ صلی السلام نے دریافت کرنے پر تصریح فرمائی کہ صلوة الوسطی عصر ہے۔ کے اس بارے میں جہاں تک روایات کا تعلق ہے وہ نماز عصر ہی تھی، جو غزوہ احزاب کے ایام میں بر وقت نہیں پڑھی جاسکی۔ آئمہ اربعہ وغیرہ کی روایات میں بھی یہی ہے۔ لیکن صلوة الوسطی کے مفہوم کی نسبت علماء سلف ا (صحیح المسلم، کتاب المساجد ، بَابُ الدَّلِيلِ لِمَنْ قَالَ الصَّلَاةُ الْوُسْطَى هِيَ صَلَاةُ الْعَصْرِ) (جامع البيان للطبرى، سورة البقرة آيت حَفِظُوا عَلَى الصَّلَواتِ وَالصَّلوة الوسطى، جزء ۴ صفحه ۳۴۴)