صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 89 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 89

صحیح البخاری جلد ۱۰ أُغَيْرُ شَيْئًا مِنْهُ مِنْ مَّكَانِهِ۔ طرفه: ٤٥٣٦ ۸۹ ۶۵ - كتاب التفسير / البقرة کیوں ہے یا رہنے کیوں دیا ہے؟ (حضرت عثمان نے فرمایا: میرے بھتیجے میں قرآن سے کچھ بھی اس کی اپنی جگہ سے نہیں بدلوں گا۔ ٤٥٣١ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ حَدَّثَنَا رَوْحٌ ۴۵۳۱: اسحاق بن راہویہ ) نے ہمیں بتایا۔ روح حَدَّثَنَا شِبْلٌ عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيح بن عبادہ ) نے ہم سے بیان کیا کہ شبل ( بن عباد ) عَنْ مُجَاهِدٍ وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ پیروں نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے (عبد الله ) ابن ابی نجیح وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا (البقرة: ٢٣٥) قَالَ سے ، انہوں نے مجاہد سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمُ ۔ ( میں جس عدت کا كَانَتْ هَذِهِ الْعِدَّةُ تَعْتَدُّ عِنْدَ أَهْلِ ذکر ہے) یہ وہ عدت ہے جو عورت کے لیے اپنے زَوْجِهَا وَاجِبٌ فَأَنْزَلَ اللهُ وَالَّذِينَ خاوند کے رشتہ داروں کے پاس گزار ناضروری تھی يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا اس لیے اللہ نے یہ آیت نازل کی: اور تم میں سے وَصِيَّةً لِازْوَاجِهِمْ مَتَاعًا إِلَى الْحَوْلِ جو لوگ وفات پا جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں۔ غَيْرَ اخْرَاجِ فَإِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ وہ اپنی بیویوں کے حق میں ایک سال تک فائدہ پہنچانے یعنی ان کو (گھروں سے) نہ نکالنے کی جو عَلَيْكُمْ فِي مَا فَعَلْنَ فِي أَنْفُسِهِنَّ مِنْ وصیت کر جائیں، لیکن اگر وہ (خود بخود چلی جائیں لمَعْرُوفٍ (البقرة: ٢٤١) قَالَ جَعَلَ الله تو وہ اپنے متعلق ج ق جو پسندیدہ بات کریں اُس کا تمہیں لَهَا تَمَامَ السَّنَةِ سَبْعَةَ أَشْهُرٍ وَعِشْرِينَ کوئی گناہ نہیں۔ مجاہد نے کہا: اللہ تعالیٰ نے (اس لَيْلَةً وَصِيَّةً إِنْ شَاءَتْ سَكَنَتْ فِي آیت میں ) عورت کے لئے سال پورا کر دیا ہے سات مہینوں اور میں راتوں کی وصیت کر کے ۔ وَصِيَّتِهَا وَإِنْ شَاءَتْ خَرَجَتْ وَهُوَ قَوْلُ اللهِ تَعَالَى غَيْرَ إِخْرَاجٍ فَإِنْ اگر چاہے تو اس وصیت کے مطابق رہے اور اگر چاہے تو چلی جائے اور یہی اللہ تعالیٰ کے اس قول خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ (البقرة : ٢٤١) سے مراد ہے کہ ان کو نہ نکالا جائے اور اگر وہ خود فَالْعِدَّةُ كَمَا هِيَ وَاجِبٌ عَلَيْهَا زَعَمَ نکلیں تو تم پر کوئی گناہ نہیں، مگر عدت جتنی ہے وہ ذَلِكَ عَنْ مُجَاهِدٍ۔ عورت پر واجب ہے۔ (شبل نے کہا کہ ابن ابی نجیح نے) مجاہد سے یہی روایت کی۔