صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 88 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 88

^^ ۶۵ - کتاب التفسير / البقرة صحیح البخاری جلد ۱۰ خطاب ہے کہ انہیں اس سے نہ روکا جائے۔مفسرین کو اس پر اتفاق ہے کہ اس آیت میں عورتوں کے ولی مخاطب ہیں۔جیسا کہ روایت زیر باب کی دوسری سند میں صراحت ہے کہ حضرت معقل نے اپنی بہن کو اپنے خاوند کے ساتھ نکاح کرنے سے روکا۔یہ روایت کتاب النکاح باب ۳۶ روایت نمبر ۵۱۳۰ میں قدرے تفصیل سے نقل کی گئی ہے۔سورۃ النساء میں بھی عورتوں پر ظلم و جبر کرتے ہوئے نکاح کے بارے میں پابندی عائد کئے رکھنے کی ممانعت کا ذکر ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَلَا تَعْضُلُوهُنَّ لِتَذْهَبُوا بِبَعْضِ مَا أَتَيْتُمُوهُنَّ (النساء:۲۰) تم انہیں (نكاح سے ) نہ رو کو تا تم نے جو انہیں دیا ہے وہ لے جاؤ۔اس ضمن میں کتاب التفسیر ، سورۃ النساء، باب ۶ قائم کیا گیا ہے۔بَاب ٤١ ٤: وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا (اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: ) اور تم میں سے جن (لوگوں) کی روح قبض کرلی جاتی ہے اور وہ (اپنے پیچھے ) بیویاں چھوڑ جاتے ہیں يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ اَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَ ( چاہیے کہ) وہ (بیویاں) اپنے آپ کو چار مہینے عَشْرًا إِلَى بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌه (اور) دس (دن) تک روک رکھیں پھر جب و (البقرة: ٢٣٥) اپنا مقررہ وقت پورا کرلیں وہ اپنے متعلق وہ طور پر جو کچھ (بھی) کریں اس کا تم پر کوئی گناہ نہیں اور جو تم کرتے ہو اللہ اس سے واقف ہے۔يعفُونَ (البقرة: ۲۳۸) يَهَبْن يَعْفُونَ کے معنی ہیں ہبہ کر دیں۔(یعنی یونہی عن دیں۔) ٤٥٣٠: حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ :۴۵۳۰: امیہ بن بسطام نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ عَنْ حَبِيبٍ یزید بن زریع نے ہمیں بتایا۔انہوں نے حبیب ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ قُلْتُ (بن شهيد) سے، حبیب نے ابن ابی ملیکہ سے روایت کی کہ (حضرت عبد اللہ بن زبیر نے کہا: لِعُثْمَانَ بْن عَفَّانَ وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ میں نے حضرت عثمان بن عفان سے وَالَّذِينَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا (البقرة: ٢٤١) يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَ يَذْرُونَ أَزْوَاجًا سے متعلق قَالَ قَدْ نَسَخَتْهَا الْآيَةُ الْأُخْرَى فَلِمَ پوچھا۔(ابن زبیر نے) کہا: اس کو دوسری آیت تَكْتُبُهَا أَوْ تَدَعُهَا قَالَ يَا ابْنَ أَخِي لَا نے منسوخ کر دیا ہے۔پھر آپ نے اس کو لکھوایا