زندہ درخت

by Other Authors

Page 83 of 368

زندہ درخت — Page 83

زنده درخت کھانا کھا لیا۔باقی دود و آنے تقسیم کر لئے اس عنایت کی یاد زندگی کا یادگار واقعہ بن گئی۔تحریک جدید کے دوسرے سال کا آغاز ہوا تو آپ نے اپنی جمع پونجی کا زیادہ حصہ چندہ میں دے دیا۔ساڑھے تین روپے باقی بچے۔حضور کو خط لکھ دیا کہ دعا کریں اللہ تعالیٰ برکت ڈالے۔اور اپنا کوئی خواب بھی لکھا۔دعا کی درخواست والے رفعے پر ہی لکھا ہوا جواب موصول ہوا کہ دعا کروں گا اور خواب کی تعبیر یہ ہے کہ اللہ تعالی کان پکڑ کر دین کی خدمت لے گا۔اور واقعی کاروبار میں برکت نصیب ہوئی اور دین کی خدمت کے مواقع بھی ملتے رہے۔جب حضرت صاحب نے دہلی میں مصلح موعود ہونے کا دعوی فرما یا تو آپ اس جلسے میں موجود تھے بلکہ سٹیج پر تصویر میں نظر آتے ہیں۔حضور نے اس سفر میں حفاظتی اقدامات کے متعلق آپ کے مشورے کو سراہا اور عمل بھی کرایا تقسیم برصغیر کے دنوں میں آپ کی ڈیوٹی امور عامہ میں تھی جسے تندہی سے نبھایا اور کئی دفعہ تعریف و انعام بھی ملا۔تقسیم کے بعد گجرات میں رہائش اختیار کی کچھ عرصہ اپنے والد صاحب کو بھی گجرات لے گئے پھر ربوہ منتقل ہو گئے۔رہائش ربوہ میں اور کارو بار فیصل آباد میں شروع کیا۔ایک دن حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد نے اس کی وجہ پوچھی تو بتایا فیصل آباد میں اچھی آمد ہو جاتی ہے جب پانچ سوروپے ہو جائیں گے تو ربوہ آجاؤں گا۔آپ نے پانچ سوروپے دے کر فرمایا اب آپ ربوہ ہی آجائیں۔اس طرح مستقل ربوہ رہنے لگے اور آخری عمر تک ربوہ میں ہی رہے۔تحریک جدید کے پانچ ہزاری مجاہدین کی کتاب میں آپ کا نمبر 528 -7 مکرم حلیمہ بیگم صاحبہ اہلیہ محترم شیخ محمد حسن صاحب اپریل 1913ء میں پیدا ہوئیں 1935ء میں لدھیانہ کے محترم شیخ محمد حسن صاحب سے شادی ہوئی۔شادی کے وقت وہ احرار کے پر جوش مہرے تھے۔اپنے تایا زاد احمدی بھائی کے ساتھ قادیان آئے اور دیندار ماحول دیکھ کر اتنے متاثر ہوئے کہ احمدیت قبول کر ہے۔83