زندہ درخت

by Other Authors

Page 84 of 368

زندہ درخت — Page 84

زنده درخت لی۔مولانا احمد خاں نسیم صاحب نے حضرت میاں فضل محمد صاحب کی بیٹی حلیمہ صاحبہ سے رشتے کی تحریک کی۔ان کا گھرانا تعلیم یافتہ تھا۔خود حلیمہ صاحبہ نے پرائمری تک تعلیم حاصل کی تھی جبکہ محمد حسن صاحب تعلیم یافتہ تھے نہ کوئی کاروبار تھا مگر اخلاص اور صداقت دیکھ کر آپ کے والد صاحب نے رشتہ طے کر دیا جو بہت بابرکت ثابت ہوا۔محترمہ حلیمہ صاحبہ نے محنت ، اطاعت گزاری اور خدمت سے سسرال والوں کا دل موہ لیا۔ہمت والی بہادر خاتون تھیں ایسا بھی ہوتا کہ شوہر کاروبار یا جماعتی کاموں کے سلسلے میں شہر سے باہر ہوتے اور آپ کمال ذمہ داری سے مردانہ وار حالات کا مقابلہ کرتیں بلکہ پگڑی باندھ کر ہاتھ میں ڈنڈا لے کر چھت پر مردوں کی طرح چوکیداری کرتیں تا کہ گھر کی طرف کوئی بد نیتی سے نہ دیکھے۔قیام پاکستان کے معابعد کچھ عرصہ فیصل آباد میں رہائش رہی۔ایک دفعہ بچے کی پیدائش متوقع تھی مگر جماعت کی طرف سے فرقان فورس میں رضا کار کے طور پر محمد حسن صاحب کا نام آگیا چار نو عمر بچیوں کی حاملہ ماں نے اس غریب الوطنی میں خدا پر توکل کی عجیب مثال قائم کی۔شوہر سے کہا آپ کو محاذ پر جانے کے لئے کہا جا رہا تو آپ کو ضرور جانا چاہئے ، آپ میری فکر نہ کریں میرا اللہ مالک ہے اس پر بھروسہ رکھیں اور ضرور جہاد پر جائیں محمد حسن صاحب کی غیر موجودگی میں اللہ تعالیٰ نے چار بیٹیوں کے بعد بیٹے سے نوازا۔تین ماہ بعد واپس آکر بیٹے کو دیکھا۔جلدی ہی ایسٹ افریقہ جانے کا پروگرام بن گیا۔ان کو پھر بچوں کے ساتھ اکیلا رہنا پڑا ہمت سے کام لیا مکان بنوایا، بچوں کو تعلیم دلوائی۔بے حد ہمدرد طبیعت کی مالک تھیں کسی کی ضرورت کا علم ہو جاتا تو ہر ممکن مدد کرتیں۔رمضان المبارک کا خاص اہتمام کرتیں۔بچوں کو ساتھ لے کر بیت کی طرف دوڑ بھاگ لگی رہتی سحری و افطاری میں دوسرے روزہ داروں کو شامل کرتیں۔اچھا کھانا پکانے اور کھلانے کا بہت شوق تھا۔محترم حسن محمد صاحب افریقہ سے لندن منتقل ہوئے تو خاندان کو بھی بلوالیا۔یہاں کئی طرح خدمت دین کی توفیق ملی۔اخبار احمد یہ برطانیہ احمد یہ بلیٹن کے ایڈیٹر ان کے داماد 84