زندہ درخت — Page 72
زنده درخت یاد کرتی تھیں کہ ہم ساس بہو سہیلیوں کی طرح رہتے تھے۔ہر دکھ سکھ کر لیا کرتے تھے آج کل سگی اولا داتا نہیں کرتی مگر اماں کے حسنِ سلوک نے اپنا عزت قدر کا مقام بنالیا تھا۔اللہ تعالیٰ انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے آمین۔تحریک جدید کے پانچ ہزاری مجاہدین میں آپ کا نمبر 527 ہے۔آپ کا وصیت نمبر 2469 تھا۔آپ کو لوائے احمدیت کے لئے سوت کاتنے کی سعادت حاصل ہوئی۔تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد اول کے صفحہ پر 452 پر چھیالیسویں نمبر پر آپ کا نام اس طرح لکھا ہے: صوباں بی بی صاحبہ اہلیہ بابا فضل محمد صاحب آف ہرسیاں محترمہ صوباں بی بی صاحبہ کی پہلی اولاد کی سب سے بڑی خوش قسمتی یہ ہے کہ حضرت خلیفہ المسیح ثانی کے سائے اور خدمت میں الدار میں رہنے کی توفیق ملی۔پھر ایک ایسے خاندان میں مل جل کے پیار محبت سے رہنے کا موقع ملا جس کو مسیحائے زماں سے خیر و برکت کی نوید ملی تھی مختصر تعارف درج ذیل ہے۔1- محترمہ فاطمہ صاحبہ اہلیہ محترم محمد جیون صاحب (1908-1986) بہت ملنسار نفاست پسند اور مہمان نواز خاتون تھیں خاندان حضرت اقدس مسیح موعود سے والہانہ لگاؤ تھا۔ان کی بڑی بیٹی محترمہ سکینہ بیگم صاحبہ (اہلیہ محترم نسیم سیفی صاحب مرحوم ایڈیٹر الفضل) کو نائجیر یا اور ربوہ میں نمایاں خدمت دین کی توفیق ملی دوسری بیٹی محترمہ سلیمہ بیگم صاحبہ نصرت گرلز ہائی سکول میں ٹیچر تھیں۔دو بیٹے محمد رشید صاحب ( ربوہ ) اور عبدالسمیع صاحب ( کینیڈا) بھی مختلف عہدوں پر جماعتی خدمات کی توفیق پارہے ہیں 2- محترم محمد عبد اللہ صاحب سادہ دل، شریف النفس انسان تھے 17 جون 1960ء کو ربوہ میں وفات پائی۔پہلی بیوی سردار بیگم صاحبہ سے ایک بیٹے حمید اللہ صاحب ہیں دوسری بیوی محترمہ رشیدہ بیگم صاحبہ سے چھ بچے ہیں : -- محتر مہ امة الحئی صاحبہ اہلیہ محترم محمد رفیق صاحب، کراچی 72