زندہ درخت — Page 71
زنده درخت ڈوریوں پر سویاں سوکھنے کے لئے ڈالتا ہم بچے کھیلتے رہتے۔اگلے دن اماں ساری سویاں بھون کر بھائی کے گھر دے آتیں بھابی کی خواہش ہوتی کہ عیدالفطر کی سویاں اور عیدی وغیرہ اور عیدالاضحی کی قربانی کا گوشت اماں ہی بانٹیں اکثر اماں کو لے جایا کرتے کبھی بھابی یا کوئی بچہ بیمار ہوا اماں کچھ دن وہیں رہتیں بھائی اماں کے بہت فرماں بردار اور خدمت گزار تھے۔اس بات کا اماں کو بھی احساس تھا سارا دکھ دردان سے ہی کرتی تھیں۔جب اماں کی آخری بیماری تھی۔بھائی کو دفتر کی طرف سے وقفِ عارضی پر کشمیر جانے کا حکم ملا وقت کم تھا تیاری بھی کرنی تھی۔ملنے کے لئے نہ آسکے بھائی کو پیغام دیا کہ اماں کو میرا دعا سلام کہہ دینا اور معذرت کر دینا۔بھائی بھی کسی وجہ سے نہ آسکیں فاصلے بھی کافی تھے پیدل آنا ہوتا تھا۔جب بھائی آئیں تو اماں نے چھٹتے ہی کہا کیا بات ہے آمنہ عبدالرحیم چار دن سے نہیں آیا۔بھابی نے سارا پیغام دیا تو اماں نے بڑی حسرت سے کہا عبدالرحیم تم مجھے ملے بغیر ہی چلے گئے اب پتہ نہیں نصیب میں ملاقات ہے بھی یا نہیں۔میری فرض شناس بھابی نے یہ سب خط میں لکھ کر بھیج دیا کہ آپ کی اتاں نے آپ کے پیغام کے جواب میں یہ کہا ہے۔بھائی نے خط ملتے ہی ایک خط دفتر والوں کو لکھا کہ میں واپس آنا چاہتا ہوں۔خدمت دین کے مواقع اللہ تعالیٰ پھر بھی دے دے گا مگر ماں کی خدمت کا موقع پھر شائد نہ ملے۔بھائی واپس آئے اماں کو بہت محبت سے ملے اور اپنے مکان کے نیچے کرایے پر دی ہوئی دکانوں میں سے ایک دکان دو دن کے نوٹس پر خالی کروا کے اماں کو اپنے پاس لے آئے۔وہاں علاج معالجے کی سہولتیں بھی زیادہ تھیں۔اماں کا ہر لحاظ سے خیال رکھا ، غذا، علاج تیمارداری میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔بھائی کے گھر آنے کے چودھویں دن اماں کا انتقال ہو گیا۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی کو علم ہوا تو فرمایا جنازہ تیار ہو تو اطلاع دیں میں خود جنازہ پڑھاؤں گا۔اللہ کے فضل واحسان سے حضور نے جنازہ پڑھایا۔اماں قادیان میں مدفون ہیں۔بھائی کی خدمت گزاری اور فرماں برداری کا نقش ابھی تک قائم ہے۔اللہ انہیں غریق رحمت فرمائے۔بھابی نے بھی بہت خدمت کی، بعد میں بھی بہت 71