زندہ درخت — Page 232
زنده درخت باجی رشیدہ بتاتی ہیں کہ ابا جان کو قرآن کریم حفظ کروانے کا بے حد و حساب شوق تھا ہم بچوں کو کوئی سورت یاد کرنے کو کہتے اور شام کو کام سے آ کر سُنتے صحیح حفظ پر آپ کا چہرہ خوشی سے د سکنے لگتا۔تلفظ ادا ئیگی، حفظ ہر پہلو سے توجہ دیتے اور خوش ہوتے۔انعام بھی دیتے۔ایک دفعہ مجھے آخری سپارہ حفظ کرنے کا ارشاد فرمایا اور ساتھ ہی بہت بڑے انعام کا وعدہ کیا اور وہ انعام تھا مخمل کا جوڑا محمل کے جوڑے کا تصور جنت کے حصول سے کم خوشگوار نہیں تھا اور ابا جان بھی شاید یہی چاہتے تھے۔سورتیں یاد کرتی رہی اور ابا جان کو سناتی رہی پھر جدائی کا زمانہ شروع ہو گیا حالات ایک دم پلٹ گئے۔فقر وفاقہ و درویشی میں محمل کے جوڑے کا وعدہ تو یاد رہا استطاعت نہ رہی۔کبھی اتنی رقم نہ ہوئی کہ وعدہ پورا کر سکتے ہر محنت کے کام کے ساتھ یہ تصور ابھرتا اور ڈوبتا رہا۔پھر ایک کھدر کی قمیض بھیجی ساتھ خط لکھا کہ غریب کے لعل فی الحال اسی کو مخمل سمجھ لو اور ساتھ آنسوؤں میں ڈوبی ہوئی دعا ئیں تھیں۔جو ساری عمر ساتھ رہیں۔ابا جان کا توکل، قناعت، سادگی ایسا درس تھا جس نے اسی دنیا کو جنت بنا دیا جو ہزار مخمل کے جوڑوں سے زیادہ قیمتی ہے اللہ تعالیٰ میرے ابا جان کو غریق رحمت فرمائے آمین۔سات سال بعد ربوہ میں 54-2-22 کو :- قادیان اپنے کمرے میں تنہا رہتے ہوئے گھر والوں میں سے کبھی کسی کی یاد کبھی کسی کی کوئی بات کبھی کوئی منظر آنکھوں میں گھوم جاتا ہے۔کبھی کسی معمولی سے واقعے کا گہرا تاثر لے لیتا۔میں صبح کی آذان کے ساتھ پہلی بار ربوہ گیا اُس وقت میری اہلیہ اور بچے دارالخواتین میں رہتے تھے میرا ایک بچہ جو جدائی کے تین ماہ بعد 1947ء میں لاہور میں میری غیر موجودگی میں پیدا ہوا تھا میرے پاس لایا گیا اور اُس سے پوچھا گیا یہ کون ہیں؟ بچے نے کہا پھوپھا جی تب اس کو میری وہ تصویر دکھائی گئی جسے دکھا کر ابا جان کے پاس جانے کی ضد میں بہلایا کرتے تھے تب میرے ذہین بچے نے فوراز در دار آواز میں ابا جی کہہ کر میرے گلے میں باہیں ڈال دیں پھر باپ نے بیٹے کو کیسے چمٹایا اور پیار کیا ہوگا۔چشم تصور سے دیکھ ، 232