زندہ درخت

by Other Authors

Page 231 of 368

زندہ درخت — Page 231

زنده درخت اظہار کرے۔ابا بڑا مزا آیا۔ابا بڑا مزا آیا۔جب میں نے بند کرنا چاہا تو اس نے کہا نہیں نہیں اسی طرح رات کے دس بج گئے نیند نے غلبہ کیا۔مگر باجے سے الگ ہونا گوارا نہ تھا اُسی پر سر رکھ کر سو گیا۔صبح آنکھ کھلتے ہی پھر ضد کی باجا لگائیں۔ایک کے بعد دوسرا ریکارڈ لگوائے۔میں نے یہ کہہ کر بھی سمجھایا کہ یہ امانت ہے ہماری چیز نہیں وہ نہیں مانا پھر جب شاہ محمد صاحب اپنا با جا واپس لینے آئے تو ضد کی واپس نہیں کرنا۔میں بازار سے دوسرا با جا اور ریکارڈلایا تو اس نے واپس کرنے دیا بہت چھوٹا تھا ا-ب-ت کی پہچان نہ تھی مگر ریکارڈوں کی پہچان ہو گئی۔جو کہتے وہ نکال لاتا۔یہ سب کیا تھا آواز کا جادو تھا یا محض کھلونا، بولنے والا کھلونا ، آہستہ آہستہ دلچسپی ختم ہوگئی۔بھول بھال گیا۔باسط بہت دلچسپ باتیں کرتا ایک دفعہ گھر میں ایک ٹوکری میں بیکری کا کچھ سامان پڑا تھا۔جی للچا گیا امی کے پاس گیا اور کہا امی بھوک لگی ہے امی جو چیز بھی دیتیں کہہ دیتا کہ یہ نہیں چاہئے بھوک لگی ہے آخر اس نے پوچھ ہی لیا کہ کس چیز کی بھوک لگی ہے تو دل کی بات زبان پر آگئی امی ٹوکری کی بھوک لگی ہے۔یعنی بیکری کا سامان چاہئے۔1951ء کا ایک خط ملاحظہ کیجئے بچوں کی یاد ، امی کا تصور اور بچوں سے محبت کا انداز نمایاں ہے۔امتہ الشکور جب قادیان سے آئی صرف ڈھائی تین سال کی تھی۔شکور سیڑھیوں میں کھڑی ہو کر اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے میرا راستہ روک کر کھڑی ہو جاتی تھی ابا جان کہاں سے جاؤ گے؟ دل ہمارا بھی نہ کرتا مگر بچوں کا پیٹ بھرنے کیلئے محنت کرنا ہوتی ہے۔آپ کی امی بھی میرے کنڈی کھٹکھٹانے کے انداز سے خوش ہو کر پر مسرت استقبال کرتی تھی۔آج جان ہتھیلی پر رکھ کر کاہنواں سائیکل پر گیا تھا۔کل جمعہ تھا ایک ہنگامی کام سلسلہ کا کیا، اس کے بدلے آج رخصت تھی۔چار سال بعد سائیکل چلایا تھک کر چور ہو گیا۔سلسلہ کی کتب تقریباً بیس سیر خریدیں۔اُمید ہے رشیدہ کے مخمل کے جوڑے کی رقم نکل آئے گی۔“ رشیدہ کے مخمل کے جوڑے کا کیا ذکر ہے۔یہ بھی ایک دلگداز یاد ہے:۔231