زندہ درخت — Page 211
زنده درخت جج نے پوچھا میں نے جواب دیا کہ سب نے سنی ان سنی کر دی اس پر جج نے بھری عدالت میں کہا کہ بڑا اندھیرا پڑا ہوا ہے اور یہی اس سارے درد ناک قصے کا عنوان ہے۔آپ کی ڈائری میں ایک جگہ پسندیدہ اشعار میں یہ قطعہ بھی لکھا ہے۔ما یا جوڑیاں مجڑ دی نائیں ناں جوڑو تاں مجڑ دی مجھ دی جڑ دی مدتاں لاوے پلک نہ لاوے مُڑ دی ما یا والے انج سریندے جیویں سڑے پت گڑ دی بلہے شاہ ہونی ہو کے رہندی لکھی قلم نہ مُڑ دی x حيرُكُمْ خَيْرُ كُم لأهله خاکسار اپنے والدین کے آٹھ بچوں میں چھٹے نمبر پر پیدا ہوئی۔جب ہوش سنبھالی ابا جان کو قادیان میں درویش پایا اور سادہ سی باوقار امی جان کو بچوں کی ذمہ داریاں ادا کرنے میں مصروف دیکھا۔دونوں کو ایک ساتھ رہتے سہتے دیکھنے کا بہت کم موقع ملا۔پہلی دفعہ 1954ء میں ابا جان ربوہ آئے پھر 1980ء میں وفات تک کبھی کبھی مختصر سی چھٹی لے کر آیا کرتے تھے۔اگر یہ سارا عرصہ شمار کریں تو کتنا بن جائے گا۔اڑھائی تین سال۔بس ہمیں اسی قدر ساتھ میسر آسکا۔اب جب خطوط پر نظر ڈالتی ہوں تو لگتا ہے کئی زندگیاں اپنے والدین کے ساتھ گزاری ہیں۔سچے کھرے، حقیقی ، بے لاگ جذبات کا ایک جہان ہے جو محسوسات میں تموّج پیدا کئے رکھتا ہے۔12-11-1948 میری پاک دامن مقدس بیوی! میری عفیفہ رفیق حیات ! میں مانتا ہوں کہ آپ کو مجھ سے محبت ہے اور میری تحریر اور خیر خیریت آپ کے لئے باعث صد مسرت ہے۔میں پوچھتا ہوں کہ اگر کسی وقت کسی مجبوری کی بناء پر میں آپ کو نہ لکھ سکوں تو میری معذوری خیال کر کے درگزر 211