زندہ درخت — Page 210
زنده درخت باٹا شوز والوں نے 100 روپے ماہوار کرایہ پر لی تھی جو اس زمانہ میں بھی غیر معمولی بات تھی کیونکہ دکانوں کے کرائے عام طور پر پندرہ بیس روپے سے زیادہ نہیں ہوتے تھے۔) ایک سعی لاحاصل : جائداد کی بازیابی کی ایک کوشش کی تفصیل اباجان نے اس طرح تحریر کی ہے:۔1947ء میں میری ساری جائیداد پر کسٹوڈین کا قبضہ ہو گیا۔1954ء میں حکومت نے اعلان کیا کہ مالکان درخواستیں دے سکتے ہیں تیس (30) پینتیس (35) احمدیوں نے قادیان اور اُس کے مضافات میں اپنی جائیدادوں کے کاغذ مع ثبوت پیش کر دیئے۔خاکسار کو کہا گیا کہ آپ کیس کی پیروی کریں آپ کا کیس ایک طرح ٹیسٹ کیس ہو گا امیر صاحب محترم نے ابتدائی فیس بھی دی 1964ء سے 1971ء تک کیس چلتا رہا جس پر خرچ بھی ہوا محنت بلکہ خواری بھی ہوئی مگر واضح علی الاعلان نا انصافی کا سامنا کرنا پڑا۔وکیلوں نے بتایا بھی کہ آپ کے کیس میں ناکامی کی کوئی وجہ نہیں مگر کوئی شنوائی نہ ہوئی ایک وکیل کے مشورے پر چندی گڑھ میں ہائی کورٹ میں رٹ داخل کی فیسوں پر فیس، سفر خرچ اور بہت کوفت برداشت کی مگر لا حاصل۔اندھیر پڑا ہوا ہے: 4 مئی 1972ء کو امیر صاحب کے ارشاد پر ایک جھگڑے میں شہادت کے لئے عدالت میں گیا۔اوم پرکاش اور اُس کے رشتہ دار میں کسی دکان کے کرایہ پر جھگڑا تھا گواہی میں مجھے یہ بتانا تھا کہ 1947ء سے پہلے میری دکانوں کا کرایہ کیا تھا میرے پاس سب کے سرکاری کرائے نامے موجود تھے۔وکیل مخالف نے مجھ پر جرح کی کہ اب یہ دکانیں کس کے پاس ہیں میں نے کہا کسٹوڈین یونین کے قبضہ میں ہیں۔کرایہ کیا ہے؟ میں نے کہا ئنا ہے کہ پانچ چھ روپیہ ہے۔اس پر جج نے سوال کیا آپ نے اپنی جائیداد حاصل کرنے کی کوشش کی؟ میں نے جواب دیا کہ جناب اس سلسلہ میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔پھر کیا ہوا؟ 210