زندہ درخت — Page 193
زنده درخت اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ سب خیریت سے تندرست اور اس کی رضا پر چلنے والے ہوں زندگی بھر کوئی دکھ نہ دیکھو۔خدمتِ دین آپ کا شعار ہوں۔کسی امتحان میں خدا نہ ڈالے۔جلسہ سالانہ پر تقریر کے لئے اچھا موضوع سمجھائے اور روح القدس کی مدد سے بیان کی قوت دے۔آمین۔“ ۷- حالات اور تاریخ کے اشارے: درویش اپنے حجرے میں بیوی بچوں کے نام خطوط میں اپنے گردو پیش کی تاریخ رقم کر رہا تھا۔بالعموم تو درویشوں کے حالات تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں۔لیکن ان ذاتی محسوسات سے دلچپسی رکھنے والوں کے لئے کئی گوشے کھلیں گے۔بطور نمونہ چند خطوط ملاحظہ ہوں :- 2-12-1948 وو میاں صاحب اچھے ہیں عنقریب ٹورنامنٹ ہونے والا ہے۔ہماری ٹیم بھی شاید والی بال کھیلنے کا لج جائے گی جو امریکہ سے کم دور نہیں معلوم ہوتا ہے کبڈی بھی درویشوں سے کھیلنا چاہتے ہیں۔سر دست دعا کریں اور کرائیں خدا تعالیٰ فتح دیتا ہے۔امرتسر، بٹالہ، دھاری وال اور جالندھر کی ٹیمیں ہار گئی ہیں اب خدا کے فضل سے دہلی کی باری ہے سکھ ہندو مل کر آتے ہیں خوب دھوم ہے۔دعا کی بے حد ضرورت ہے۔’میاں صاحب اچھے ہیں، آپ کو علم تھا کہ ساری جماعت کو ان پیارے وجودوں کی خیریت کا فکر ہے۔اس لئے میاں وسیم احمد صاحب کا ذکر ہے۔ان دنوں آزادانہ ادھر ادھر جانے پر پابندی تھی۔کھیل میں دلچسپی نے باہر جانے کی راہیں کھولیں۔خط میں اسی لئے کالج کو امریکہ سے کم دور نہیں لکھا۔ابا جان کا جسم پھر تیلا ورزشی تھا کئی قسم کی کھیلیں کھیلنا پسند کرتے۔اسی طرح ریڈیوٹی وی پر کھیلوں کے پروگرام دیکھنا پسند تھا۔کھیل دیکھتے ہوئے بے ساختہ کھلاڑیوں کو مشورے بھی دیتے خاص طور پر کبڈی کھیلنا اور دیکھنا اچھا لگتا تھا۔193